لکھیم پور تشدد: بی جے پی لیڈر نے بھی مرکزی وزیر کو ٹھہرایا ذمہ دار، پی ایم مودی سے برخاست کرنے کی اپیل

بی جے پی لیڈر اور سابق رکن اسمبلی رام اقبال سنگھ کا کہنا ہے کہ اجے مشرا کو تو کسانوں سے معافی مانگنی چاہیے تھی، لیکن وہ بیٹے کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں، انھیں پرتشدد واقعہ پر ذرا بھی پچھتاوا نہیں ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی
وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی
user

تنویر

اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کو ہٹائے جانے کا مطالبہ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ اب بی جے پی لیڈر اور سابق رکن اسمبلی رام اقبال سنگھ نے بھی ان کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور لکھیم پور تشدد معاملہ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ رام اقبال سنگھ نے اجے مشرا کو تشدد واقعہ کا سازش تیار کرنے والا قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے گزارش کی ہے کہ انھیں فوراً برخاست کیا جائے۔

اتر پردیش بی جے پی یونٹ کی مجلس عاملہ کے رکن اور سابق رکن اسمبلی اقبال سنگھ نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا کو لکھیم پور کھیری تشدد واقعہ کا سازشی بتایا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ واقعہ کے کچھ دن پہلے انھوں نے دھمکی بھرے انداز میں جو بیان دیا تھا، اس نے آگ میں گھی کا کام کیا۔ اقبال سنگھ کا کہنا ہے کہ اجے مشرا کو تو کسانوں سے معافی مانگنی چاہیے تھی لیکن وہ اپنے بیٹے کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ انھیں اس پرتشدد واقعہ پر ذرا بھی پچھتاوا نہیں ہے۔


رام اقبال سنگھ نے یہ بھی کہا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے نے گاڑی سے کسانوں کو روند کر مار ڈالا۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ لیکن وزیر محترم آج بھی کرسی پر بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو انھیں فوراً برخاست کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہوئے لکھیم پور تشدد اور گورکھپور میں کاروباری کے قتل واقعہ سے بی جے پی حکومت کی بہت بدنامی ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 Oct 2021, 11:11 PM