بی جے پی خود بڑی بیماری ہے، مودی حکومت کورونا کی دوسری لہر کے لیے ذمہ دار: ممتا

ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’کیا انھیں (نڈا کو) پتہ ہے کہ ان کی لاپروائی اور صرف بنگال کی سیاست میں ان کی دلچسپی کے سبب یہ حالات ہوئے۔ بنگال الیکشن کے بعد بھی وہ بنگال کو توڑنے کی کوشش میں مصروف تھے۔‘‘

ممتا بنرجی، تصویر آئی اے این ایس
ممتا بنرجی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور مرکزی حکومت کے درمیان رسہ کشی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بی جے پی اور ترنمول لیڈران ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے۔ ایک طرف جہاں بی جے پی ممتا بنرجی پر بنگال کو تباہ کرنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے، وہیں ممتا بنرجی مرکز کی مودی حکومت کو عوام مخالف پالیسیوں کو لے کر نشانہ بناتی رہی ہیں۔ ممتا بنرجی نے اپنے تازہ پریس کانفرنس میں بھی مودی حکومت کو جی بھر کر تنقید کا نشانہ بنایا اور یہاں تک کہہ دیا کہ انھیں لگتا ہے جیسے بی جے پی خود ایک بڑی بیماری ہے۔

پریس کانفرنس میں میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کورونا ویکسین کو لے کر بی جے پی صدر جے پی نڈّا کے اس بیان کو نشانہ بنایا جس میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن ٹیکہ کاری کو لے کر سیاست کر رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’کورونا وبا کی دوسری لہر کے لیے مرکز کی بی جے پی حکومت ذمہ دار ہے۔‘‘ دراصل ایک رپورٹر نے ان سے سوال کیا تھا کہ بی جے پی صدر جے پی نڈّا نے ٹیکہ کاری کو لے کر اپوزیشن پر حملہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جو پہلے ٹیکہ کاری پر سیاست کر رہے تھے، اب وہ خود ہی ٹیکہ لینے میں مصروف ہو چکے ہیں۔


رپورٹر کا سوال سن کر ممتا بنرجی برہم ہو گئیں اور سخت الفاظ میں کہا کہ ’’مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کیوں نڈّا اس طرح کی بات کرتے ہیں؟ کیا انھیں پتہ ہے کہ ان کی لاپروائی اور صرف بنگال کی سیاست اور الیکشن میں ان کی دلچسپی رہنے کی وجہ سے ہی یہ حالات ہوئے ہیں۔ بنگال الیکشن کے بعد بھی وہ بنگال کو توڑنے کی کوشش میں مصروف تھے۔‘‘ ممتا بنرجی نے ساتھ ہی یہ سوال داغ دیا کہ ’’6 سے 8 مہینے کے درمیان انھوں نے کیا کچھ کیا؟ کچھ نہیں۔ وہ لوگ دوسری لہر کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دوسری لہر میں بھی انھوں نے ریاستوں کو ٹھیک طرح سے ویکسین نہیں دی۔ ویکسین تقسیم کرنے کا سسٹم بھی پوری طرح غلط تھا۔ گجرات جیسی کچھ بی جے پی حکمراں ریاستیں تھیں جہاں ویکسین ٹھیک طرح سے دی گئیں اور پارٹی دفتر ویکسین تقسیم کر رہے تھے۔ لیکن دوسروں کو ٹھیک سے ویکسین نہیں دی گئی۔ آخر انھوں نے ہمیں دیا ہی کیا؟‘‘

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’اب وہ کہتے ہیں کہ 21 تاریخ سے ویکسین پروگرام چلائیں گے۔ یعنی جب وزیر اعظم نے ملک کے نام پیغام دیا، اس کے بعد بھی 15 دن بے کار ہو گئے۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں، ان سب کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ آخر کیوں اپوزیشن ایک وبا کے ساتھ کھیلے گا؟ مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی ہر کسی کے لیے ایک وبا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔