سیلاب کے نام پر بی جے پی نفرت کی سیاست کر رہی: مایاوتی

منگل سے شروع ہو رہے اسمبلی کے مانسون اجلاس کے سلسلہ میں مایاوتی نے کہا کہ ان کی پارٹی عوامی مفاد کے امور، خصوصاً کسان مخالف تینوں زرعی قوانین کے خلاف آواز اٹھائے گی۔

مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنو: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے اترپردیش میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سیلاب کی آڑ میں بی ایس پی کے روشن خیال لوگوں کی کانفرنس میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے نفرت کی سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے۔ مایاوتی نے پیر کو کہا کہ سیلاب متاثرین کو مدد پہنچانے کی بجائے بی جے پی ’جن آشیرواد یاترا‘ کا انعقاد کر رہی ہے اور بی ایس پی پر الٹا الزام لگا رہی ہے کہ ان کی پارٹی سیلاب متاثرین کی مدد نہ کرکے روشن خیال طبقہ کی کانفرنس کر رہی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ بی ایس پی کے لوگوں نے اپنی صلاحیت کے مطابق کورونا کے دور میں سرکاری نظراندازی کے شکار لوگوں کی مدد کی۔ بی ایس پی کے لوگوں نے سیلاب متاثرین کی بھی مدد کی ہے، اس میں انہیں بی جے پی کی صلاح کی ضرورت نہیں ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے کہا کہ بی ایس پی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں پر الزام لگانے کی بجائے بی جے پی حکومت کو سیلاب متاثرین کی مدد کی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔ صرف فضائی دورہ کرنے سے سیلاب متاثرین کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے بلکہ انہیں وقت سے راحتی سامان بھی پہنچانا چاہئے۔ انھوں نے صلاح دی کہ بی جے پی نے آج سے جن آشیرواد یاترا شروع کی ہے۔ بہتر ہوتا کہ پارٹی اپنی یاترا کو سیلاب متاثرین مدد کی یاترا کے طور پر نکالتی۔ یہ وقت کی مانگ ہے۔ بی ایس پی جب اپنے روشن خیال طبقہ کی کانفرنس کرتی ہے تو بی جے پی کو سیلاب یاد آجاتا ہے۔ یہ سب ان کا دہرا کردار ہے۔ کورونا کے دور کے دوران بی جے پی جن آشیرواد یاترا میں کورونا قواعد پر کتنا عمل کرسکے گی، یہ دیکھنے کی بات ہے۔ روشن خیال افراد کی کانفرنس میں قواعد کی آڑ میں رکاوٹ ڈالنے کی سرکاری کوشش رکی نہیں ہے بلکہ جاری ہے۔ انہیں اس کی پوری معلومات ہے۔


بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ان سرگرمیوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی بی ایس پی کی کانفرنسوں سے بوکھلائی ہوئی ہے۔ اگر یہ لوگ نفرت کی سیاست کرتے رہیں گے اور دہرا معیار اختیار کریں گے تو انہیں اس کا خمیازہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں اٹھانا پڑے گا۔ بی ایس پی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو روکنے کے لئے بی جے پی حکومت تمام ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے تاکہ ان کی خامیاں سامنے نہیں آئیں۔ اس کے لئے سام دام دنڈ بھید کے استعمال سے انہیں کوئی گریز نہیں ہے۔ اس سے ان کو سیاسی فائدہ ہونے والا نہیں ہے بلکہ مزید نقصان ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت آئندہ وقت میں بھی مزید ہتھکنڈوں کا استعمال کرسکتی ہے۔ بی ایس پی کے کارکنوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے تنظیم کو مضبوط کرنا چاہئے۔ بی ایس پی اپنے موجودہ پروگراموں میں کورونا قواعد پر عمل کرے۔

منگل سے شروع ہو رہے اسمبلی کے مانسون اجلاس کے سلسلہ میں مایاوتی نے کہا کہ ان کی پارٹی عوامی مفاد کے امور خاص طور پر تین زرعی قوانین کے خلاف آواز اٹھائے گی۔ پارٹی کے اراکین کی کوشش ہوگی کہ کسانوں کی رضامندی کے بغیر نافذ کئے گئے زرعی قوانین اترپردیش میں نافذ نہ کئے جاسکیں۔ اس کے علاوہ خراب امن و قانون نظام، دلت استحصال، خواتین استحصال اور سیلاب متاثرین کی نظراندازی کے امور اجلاس کے دوران اٹھائے جائیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔