’گوا کی ماحولیات، ثقافت و شناخت کو بی جے پی تباہ کر رہی‘، کانگریس نے پارلیمنٹ میں پیش پرائیویٹ بل پاس کرنے کا کیا مطالبہ

گوا کانگریس کے صدر پاٹکر نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں 76 اسکوائر کلومیٹر جنگل صاف ہو گئے اور 68 لاکھ اسکوائر میٹر زمین کا لینڈ یوز بدل کر اسے فروخت کرنے کی سازش تیار کی گئی۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس نے گوا کے حالات پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں پیش کردہ پرائیویٹ بل کو پاس کیا جائے۔ پارٹی رکن پارلیمنٹ کے ذریعہ گوا کو خصوصی درجہ دینے کی گزارش کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں پرائیویٹ بل پیش کیا گیا ہے، جس کی منظوری کی گزارش ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ کی گئی ہے۔ ساتھ ہی مرکزی و ریاستی حکومت پر گوا کے ماحولیات، ثقافت اور ثقافت کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں گوا کانگریس کے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے، جنوبی گوا کے رکن ارپلیمنٹ کیپٹن وریاٹو فرنانڈیز اور ریاستی صدر امت پاٹکر نے بی جے پی حکومت پر گوا کو ’کوئلہ ہب‘ بنانے اور اس کی قدرتی خوبصورت کو تباہ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ مانک راؤ ٹھاکرے نے کہا کہ گوا کی پہچان پوری دنیا میں اس کی سیاحت اور ثقافت سے ہے، لیکن بی جے پی کی ’ڈبل انجن‘ حکومت گوا کے مفادات کو پوری طرح سے نظر انداز کر رہی ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں نریندر مودی نے گوا کو محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 12 سال گزر جانے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا۔ ٹھاکرے نے حال ہی میں گوا میں ہوئے دردناک حادثہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں 25 لوگوں کی جان چلی گئی، لیکن حکومت نےق صورواروں پر سخت کارروائی کی جگہ صرف مجسٹریٹ جانچ کا حکم دے کر خانہ پری کر دی۔ کانگریس نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا تھا، جسے مسترد کر دیا گیا۔


جنوبی گوا سے کانگریس رکن پارلیمنٹ کیپٹن وریاٹو فرنانڈیز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انھوں نے لوک سبھا میں آئین ترمیمی بل 2025 پیش کیا ہے، جس کے تحت گوا کو آرٹیکل 371-وَن اے کے تحت خصوصی آئینی تحفظ دینے کی تجویز ہے۔ اس ترمیم کے تحت ’گوا سسٹینیبل ڈیولپمنٹ کونسل‘ قائم کر گوا کی بچی ہوئی زمین، ندیوں، جنگلوں، پہاڑیوں، باغانوں اور زرعی اراضی کا آئینی تحفظ یقینی کیا جائے گا۔ یہ بل روایتی طبقات، ماہی گیروں، درج فہرست قبائل، درج فہرست ذات، او بی سی اور کونکنی زبان، تہواروں، مقامی فنون اور وراثت کی سیکورٹی یقینی کرتا ہے، تاکہ گوا کی شناخت اور اس کی ثقافتی وراثت محفوظ رہ سکے۔ اس سے ہماچل پردیش، اروناچل پردیش، سکم اور میزورم کی طرز پر گوا کو آئینی تحفظ مل سکے گا۔

گوا کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے فرنانڈیز نے یاد دلایا کہ 1961 میں گوا کو آزاد کرایا گیا، 1967 میں اندرا گاندھی کی قیادت میں عوامی سروے نے یہ یقینی بنایا کہ گوا ایک آزاد یونٹ بنا رہے اور 1987 میں راجیو گاندھی نے ریاستی درجہ دیا اور کونکنکی کو سرکاری زبان کی شکل میں منظوری دی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ گوا کی شناخت کو محفوظ رکھنے میں کانگریس پارٹی کا تعاون ہے۔ کانگریس لیڈر نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے گوا میں بڑے پیمانے پر تباہی کو فروغ دیا ہے۔ 2020 کے لاک ڈاؤن کے دوران کارپوریٹ مفادات کے لیے ریلوے ڈبل ٹریکنگ، سڑک توسیع اور تمنار  پروجیکٹ جیسے تین بڑے پروجیکٹ کو کوئلہ ٹرانسپورٹیشن آسان بنانے کے لیے آگے بڑھایا گیا، جس سے گوا میں ماحولیات کو وسیع پیمانہ پر نقصان ہوا۔ مورموگاؤ بندرگاہ کو میجر پورٹ اتھارٹی بنا کر کوئلہ ہینڈلنگ بڑھائی گئی، جس سے گوا ایک جنت سے ’کوئلہ ہب‘ میں بدل گیا۔


گوا کانگریس صدر امت پاٹکر نے اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کچھ اعداد و شمار پیش کیے۔ انھوں نے بتایا کہ گوا کی آبادی 16 لاکھ ہے اور یہاں ہر سال ایک کروڑ سے زیادہ سیاح آتے ہیں۔ اس کے باوجود بنیادی ڈھانچہ اور ماحولیات کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں 76 اسکوائر کلومیٹر جنگل صاف کر دیے گئے۔ حکومت نے ترامیم کے ذریعہ سے تقریباً 68 لاکھ اسکوائر میٹر زمین کا لینڈ یوز بدل کر اسے فروخت کرنے کی سازش کی ہے۔ انھوں نے اسے کروڑوں روپے کا گھوٹالہ قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’100 دن میں ریجنل پلان لانے کا وعدہ کرنے والی بی جے پی نے ریاست میں 14 سال سے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کیا۔‘‘

کانگریس لیڈران کا کہنا ہے کہ مختلف پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ پرائیویٹ بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں پاس ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ بل پارلیمنٹ میں پاس نہیں ہوتا ہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ گوا کی ثقافتی وراثت اور شناخت کو بچانے کے لیے کانگریس پارلیمنٹ سے لے کر گوا کی سڑکوں تک بڑا تحریک چلائے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔