چنندہ سرمایہ کاروں کی دوست بی جے پی حکومت پوری طرح غریبوں کا حق ختم کرنے پر آمادہ: کھڑگے
کانگریس صدر کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’وی بی جی رام جی‘ ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا ہے اور مزدوروں کو ان کے حال پر در در بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکز کی مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے منریگا کو مکمل طور پر ختم کرنے سے پہلے ہی ’کام کے حق‘ کا گلا گھونٹ دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے کروڑوں غریبوں کو منریگا سے محروم رکھ کر شدید پریشانی اور اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ بیان انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔
اپنی پوسٹ میں تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کچھ اہم اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ملک میں 44 لاکھ کم خاندانوں کو منریگا کے تحت کام ملا ہے، جبکہ 67 لاکھ کم مزدوروں کو روزگار فراہم کیا گیا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 100 دن کا مکمل روزگار حاصل کرنے والے خاندانوں کی تعداد میں 40.5 فیصد کی کمی آئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، ’پرسن ڈیز‘ میں بھی 21.5 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہر منریگا خاندان کو اوسطاً 1221 روپے کی آمدنی کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے اپنی پوسٹ میں ’وی بی جی رام جی‘ قانون کا بھی ذکر کیا، جو منریگا کی جگہ لایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’وی بی جی رام جی‘ قانون ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا ہے اور مزدوروں کو اُن کے حال پر در در بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بی جے پی کی حکومت ریاستوں کے کروڑوں روپے کے بقایہ جات ادا نہیں کر رہی، اور دوسری طرف نئے ڈھانچے کے تحت 40 فیصد مالی بوجھ ریاستوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ وہ بھی ایسی حالت میں جب کئی ریاستیں پہلے ہی وسائل کی کمی سے نبرد آزما ہیں۔
کانگریس صدر نے اپنی پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنے کچھ دوستوں کا خاص خیال رکھنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’چند منتخب سرمایہ داروں کی دوست بی جے پی حکومت پوری طرح غریبوں کے حقوق ختم کرنے پر آمادہ ہے، اور یہی غریبوں کے تئیں اُن کی اصل پالیسی اور نیت کو بے نقاب کرتا ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے سرکردہ لیڈران لگاتار مودی حکومت پر منریگا کو ختم کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، اور اس سازش کے خلاف جنگ کا اعلان بھی کانگریس نے کر رکھا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
