میری حکومت بی جے پی کو راس نہیں آئی: کمل ناتھ

کمل ناتھ نے پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کے ذریعہ کئے گئے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے 15 مہینے میں جتنے بھی کام کئے وہ عوام کے لئے تو اچھے تھے، لیکن بی جے پی کو راس نہیں آئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ نے پریس کانفرنس کر کے آج باضابطہ یہ اعلان کر ہی دیا کہ وہ وزیر اعلی کے عہدے سے اپنا استعفی دے رہے ہیں۔ کمل ناتھ کے اس اعلان کے بعد مدھیہ پردیش میں چل رہے سیاسی شہ اور مات کا کھیل ختم ہو گیا۔اس سے قبل مدھیہ پردیش اسمبلی کے اسپیکر نے 16 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کر لئے تھے جس کے بعد اندازہ ہو گیا تھا کہ کانگریس کی کمل ناتھ حکومت نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور حکومت بچانے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

کمل ناتھ نے وزیر اعلی کی حیثیت سے آخری پریس کانفرنس میں اپنی حکومت کے ذریعہ کئے گئے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے بی جے پی کے 15 سال کے مقابلے میں 15 مہینے میں جو کام کیے، وہ عوام کے لیے بہت مفید تھے۔ انھوں نے کہا کہ "میں نے 15 مہینے میں جتنے بھی کام کئے وہ تمام عوام کے لئے تو اچھے تھے، لیکن بی جے پی کو راس نہیں آئے۔" انہوں نے کہا کہ بی جے پی ان کی حکومت کے کاموں سے خوفزدہ ہو گئی اور اس کو یہ احساس ہو گیا کہ اگر یہ حکومت ایسے عوام کے لئے کام کرتی رہی تو بی جے پی کی مدھیہ پردیش میں واپسی نا ممکن ہے۔ اسی خوف کے پیش نظر بی جے پی نے پھر سازش رچی اور اس میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن وہ عوام کے لئے کام کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

کمل ناتھ نے کہا کہ آج کے بعد کل آئے گا اور کل کے بعد پرسوں بھی آئے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پرسوں کے آنے سے مراد ان کا 23 سیٹوں (22 کانگریس اور ایک بی جے پی)پر ہونے والے انتخابات سے ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے اپنے ساتھیوں کا بھرپور تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا۔ کانگریس ، کمل ناتھ اور دگوجے کے لئے اب سب سے بڑا چیلنج کانگریس کےباقی اراکین اسمبلی کو سمیٹ کر رکھنا ہے۔

Published: 20 Mar 2020, 2:11 PM
next