بی جے پی کا دعوی 300 سیٹوں کا، لیکن کہاں سے حاصل ہوں گی یہ سیٹیں...

بی جے پی کی اعلیٰ قیادت لگاتار دعوے کر رہی ہے کہ اسے 300 سیٹیں ملیں گی۔ آخری دور کی ووٹنگ سر پر ہے، اور کوئی بھی جوڑ-توڑ بی جے پی کے نمبرس کو 300 تک نہیں لے جا رہا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مغربی بنگال:

میڈیا میں بہت شور ہے کہ بی جے پی مغربی بنگال میں کئی سیٹیں جیت سکتی ہے، لیکن ایسی کوئی سیٹ فی الحال نظر نہیں آ رہی۔ آخری مرحلہ میں جتنی سیٹیں ہیں ان میں دو کو چھوڑ کر سبھی سیٹوں پر بی جے پی گزشتہ مرتبہ تیسرے مقام پر رہی تھی۔ دیگر دو میں سے ایک سیٹ پر چوتھے مقام پر رہی تھی جب کہ ایک ایسی سیٹ تھی جس پر وہ مقابلے میں تھی۔

بی جے پی کے اطمینان کے لیے اسی کولکاتا شمال سیٹ پر سب سے پہلے بات کی جائے جس پر وہ گزشتہ بار نمبر 2 پر رہی تھی۔ پارٹی نے اپنے سابق ریاستی صدر راہل سنہا کو ہی یہاں امیدوار بنایا ہے۔ ان کا مقابلہ ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ سدیپ بندوپادھیائے سے ہے اور ان سے ہی راہل سنہا گزشتہ بار یعنی 2014 میں ہارے تھے۔ اس وقت ترنمول کو بی جے پی سے 10 فیصد سے بھی زیادہ ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی کے لیے تو چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ اپنا گزشتہ ووٹ فیصد برقرار رکھے۔

جے نگر میں بی جے پی 2014 میں چوتھے مقام پر تھی۔ اس بار اس نے اپنا امیدوار بدل دیا ہے۔ لیکن اس سے اس کے ووٹ فیصد میں کس طرح اضافہ ہوگا، یہ سمجھنا مشکل ہی ہے۔ دَمدم میں پچھلی بار بی جے پی ترنمول کانگریس اور سی پی ایم کے بعد تیسرے مقام پر رہی تھی۔ اسی طرح باراسات میں بی جے پی ترنمول کانگریس اور فارورڈ بلاک کے بعد تیسرے مقام پر رہی تھی۔ پچھلی بار بی جے پی نے یہاں مشہور جادوگر پی سی سرکار کی فیملی کے جونیئر سرکار کو ٹکٹ دیا تھا، لیکن ان کا جادو ناکام رہا تھا۔ اس بار اس نے اپنا امیدوار بدل دیا ہے۔

بشیر ہاٹ میں بھی بی جے پی ترنمول کانگریس اور سی پی آئی کے بعد تیسرے مقام پر رہی تھی۔ یہاں بھی اس بار بی جے پی نے اپنا امیدوار بدل دیا ہے۔ متھرا پور میں بی جے پی 5 فیصد ووٹ کے ساتھ تیسرے مقام پر رہی تھی۔ یہاں بھی بی جے پی نے اپنا امیدوار بدل دیا ہے۔ ڈائمنڈ ہاربر میں بھی بی جے پی ترنمول کانگریس اور سی پی ایم کے بعد تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ اس سیٹ پر بھی بی جے پی نے اپنا امیدوار بدلا ہے۔

کچھ یہی حال جادو پور کا بھی ہے۔ یہاں بھی بی جے پی پچھلی بار ترنمول کانگریس اور سی پی ایم کے بعد تیسرے مقام پر رہی تھی۔ یہاں بھی اس نے اپنا امیدوار بدلا ہے۔ کولکاتا جنوب میں پچھلی بار بی جے پی نے تتھاگت رائے کو امیدوار بنایا تھا۔ الیکشن ہارنے کے بعد انھیں گورنر بنا دیا گیا۔ اس بار بی جے پی نے چندر کمار بوس کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔

جھارکھنڈ:

آخری مرحلہ میں جھارکھنڈ کی تین سیٹوں پر ووٹنگ ہے جن میں سے دو پر بی جے پی گزشتہ الیکشن بھی ہار گئی تھی۔ ان میں سے راج محل میں بی جے پی نے اسی امیدوار پر اپنا داؤ لگایا ہے جن کی پچھلی بار شکست ہوئی تھی۔ دمکا میں تو بی جے پی اپنی بہتری سوچ بھی نہیں سکتی۔ یہاں سے جھارکھنڈ مکتی مورچہ سپریمو شیبو سورین امیدوار ہیں۔ پچھلی بار ان کے سامنے رہے جھارکھنڈ وکاس مورچہ سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بابو لال مرانڈی کی اس بار سورین کو حمایت ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے لیے یہاں کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔

گوڈا میں بی جے پی کے نشیکانت دوبے پچھلی بار کامیاب ہو گئے تھے کیونکہ جے وی ایم، جے ایم ایم اور کانگریس میں ووٹوں کی تقسیم ہو گئی تھی۔ اس بار تینوں مل کر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اس سیٹ پر نتیجے کا اندازہ لگانا بہت مشکل نہیں ہے۔

بہار:

بہار کو لے کر بی جے پی اور این ڈی اے میں اس بار ویسے بھی کشمکش کی حالت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انھیں اپنی کارکردگی کو لے کر شبہ ہے۔ ایسا ہونے کی وجہ بھی ہے۔ مثلاً پٹنہ صاحب ایسی سیٹ ہے جو بی جے پی کے لیے اب تک محفوظ مانی جاتی تھی۔ یہاں سے فلم اداکار سابق مرکزی وزیر شتروگھن سنہا رکن پارلیمنٹ تھے۔ لیکن نریندر مودی-امت شاہ کی جوڑی نے انھیں پورے پانچ سال سائیڈ لائن کیے رکھا اور اس بار ٹکٹ نہیں دیا۔ اس سے عاجز آ کر انھیں کیرتی آزاد اور نوجوت سنگھ سدھو کی طرح کانگریس جوائن کرنی پڑی اور وہ اس سیٹ پر مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کو چیلنج پیش کر رہے ہیں۔ روی شنکر پرساد کی خاصیت رہی ہے کہ انھیں کسی عام انتخاب میں فتح کا تجربہ نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ راجیہ سبھا میں رہے ہیں۔

بغل کی پاٹلی پترا سیٹ پر مرکزی وزیر رام کرپال یادو بی جے پی امیدوار ہیں۔ وہ کبھی لالو پرساد یادو-رابڑی دیوی فیملی کے بھروسے مند تھے۔ پچھلی بار انھوں نے پارٹی بدل لی تھی اور اسی لیے پارٹی نے انھیں امیدوار بنایا تھا۔ لیکن اس بار لالو کی بیٹی راجیہ سبھا رکن میسا بھارتی انھیں زبردست چیلنج دے رہی ہیں۔ 2014 میں میسا بہت کم فرق سے رام کرپال یادو سے الیکشن ہاری تھیں۔

کانگریس-آر جے ڈی اتحاد نے آرہ سیٹ سی پی آئی (ایم ایل) کو دی ہے۔ بی جے پی یہ سیٹ پچھلی بار 44 فیصد سے بھی کم ووٹ لے کر جیت گئی تھی۔ لیکن اس بار بی جے پی مخالف ووٹوں کی گول بندی سے بی جے پی پریشان ہے۔ بکسر میں بھی بی جے پی کے اشونی چوبے ووٹوں کی تقسیم کے سبب کامیاب ہوئے تھے۔ اس بار جگدانند سنگھ مہاگٹھ بندھن امیدوار کے طور پر کھڑے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے تک اتر پردیش میں بی جے پی کی معاون رہی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی نے یہاں اودے نارائن رائے کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ بی جے پی کے لیے یہ ایک کانٹے کی طرح ہے۔

کاراکاٹ میں حالات کچھ الگ ہیں۔ پچھلی بار اوپیندر کشواہا این ڈی اے کے ساتھ تھے، اس بار بہار میں اتحاد کے ساتھ ہیں۔ اس لیے این ڈی اے امیدوار کے لیے اس بار مشکل ہو رہی ہے۔ دھیان رہے، آر ایل ایس پی کے بانی صدر اوپیندر کشواہا نے 2014 میں بہار میں این ڈی اے کی جیت میں اہم کردار نبھایا تھا۔

پنجاب:

وزیر اعظم نریندر مودی نے چھٹے مرحلے کی ووٹنگ آتے آتے آنجہانی راجیو گاندھی پر بے وجہ کے الزام صرف اس لیے لگائے تاکہ بی جے پی دہلی-پنجاب میں منھ دکھانے کی حالت میں آ جائے۔ لیکن اس کا فائدہ نہ تو دہلی میں ملتا نظر آیا، نہ یہ منشا پنجاب میں پوری ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پنجاب میں کیپٹن امرندر سنگھ حکومت نے کئی ایسے قدم اٹھائے ہیں جس وجہ سے بی جے پی اور شیرومنی اکالی دل کے لیے جگہ اب مزید کم ہو گئی ہے۔ اسی وجہ سے گرداس پور میں بھی اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔

فلم اداکار ونود کھنہ نے بی جے پی کے لیے یہ سیٹ 2014 میں 1.36 لاکھ کے بڑے فرق سے جیتی تھی۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد ہوئے ضمنی انتخاب میں کانگریس نے تقریباً دو لاکھ ووٹوں کے فرق سے یہ سیٹ جیت لی۔ بی جے پی نے اس بار فلم اداکار سنی دیول کو امیدوار بنایا ہے۔ لیکن ان کی حالت اس سے ہی سمجھی جا سکتی ہے کہ سنی کے والد بزرگ فلم اداکار دھرمیندر نے تشہیر کے لیے یہاں پہنچنے پر کہا کہ اگر انھیں پتہ ہوتا کہ آنجہانی بلرام جاکھڑ کے بیٹے سنیل جاکھڑ یہاں سے کانگریس امیدوار ہیں تو وہ سنی کو انتخاب لڑنے سے منع کرتے۔

امرتسر سیٹ تو ویسے ہی بی جے پی کے لیے مشکل ہے۔ 2014 میں کیپٹن امرندر سنگھ نے ارون جیٹلی کو یہاں سے شکست دی تھی۔ یہ بات دوسری ہے کہ وکیل جیٹلی کو مودی ڈیفنس، فنانس جیسی اہم وزارت دیتے رہے۔ خیر... جب امرندر وزیر اعلیٰ بنے اور یہاں ضمنی انتخاب ہوئے تو بی جے پی کو 2014 کے مقابلے 80 ہزار کم ووٹ ملے جب کہ عام آدمی پارٹی کا ووٹ فیصد بڑھا۔

کھڈور صاحب سیٹ پر شرومنی اکالی دل کے رنجیت سنگھ برہم پورا پچھلی بار کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے ووٹوں میں تقسیم کے سبب انتخاب جیت گئے تھے۔ مگر اس بار شرومنی اکالی دل نے برہم پورا کا ٹکٹ کاٹ کر جاگیر کور کو امیدوار بنایا ہے۔

جالندھر سیٹ پر این ڈی اے 2014 میں بھی ووٹوں کے بڑے فرق سے ہار گئی تھی۔ لدھیانہ میں پچھلی بار این ڈی اے لڑائی میں دور دور تک نظر بھی نہیں آ رہی تھی۔ یہاں کانگریس کامیاب ہوئی تھی جب کہ عام آدمی پارٹی دوسرے مقام پر رہی تھی۔ ہوشیار پور میں بی جے پی پچھلی بار کانگریس سے کافی کم 1.5 فیصد ووٹ کے فرق سے جیت گئی تھی۔ اس بار مشکل دیکھ کر بی جے پی نے امیدوار بدل دیا ہے۔

آنند پور صاحب میں پچھلی بار شرومنی اکالی دل نے کانگریس کو کافی کم تقریباً 2 فیصد ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔ مگر اس بار کانگریس کے منیش تیواری یہاں بہت اچھی پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ فتح گڑھ صاحب اور فرید کوٹ میں 2014 میں عام آدمی پارٹی جیتی تھی، لیکن اس بار دونوں ہی جگہ کانگریس کی حالت کافی مضبوط ہے۔

فیروز پور میں پچھلی بار شرومنی اکالی دل کافی کم ووٹوں کے فرق سے جیت گئی تھی۔ لیکن اس بار شرومنی اکالی دل کے رکن پارلیمنٹ شیر سنگھ گھبایا کانگریس امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ بھٹنڈا سیٹ بھی پچھلی بار شرومنی اکالی دل نے کافی کم 2 فیصد ووٹوں کے فرق سے جیتا تھا۔

سنگرور میں عام آدمی پارٹی کے بھگونت مان اور کانگریس کے کیول سنگھ ڈھلوں کے درمیان ہی لڑائی ہے۔ پٹیالہ میں بھی کانگریس کی پرنیت کور کافی مضبوط حالت میں ہیں۔ وہیں مرکز کے ماتحت چنڈی گڑھ ریاست میں فلم اداکارہ کرن کھیر اس بار مشکل میں ہیں کیونکہ گزشتہ پانچ سال کے دوران انھوں نے علاقائی ڈیولپمنٹ کے لیے کم ہی کام کیا۔ اس وجہ سے 2004 اور 2009 میں یہاں سے جیتے کانگریس امیدوار پون بنسل مضبوط حالت میں نظر آ رہے ہیں۔

ہماچل پردیش:

سابق مرکزی وزیر پنڈت سکھرام کے واپس کانگریس میں شامل ہونے سے منڈی سیٹ پر حالت پوری طرح کانگریس کے حق میں نظر آ رہی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب کے وقت سکھرام بی جے پی میں تھے، اس وجہ سے اس علاقے کی کی کئی سیٹوں پر بی جے پی کامیاب ہو گئی تھی۔

کانگڑا سیٹ ایسی ہے جہاں بی جے پی دو بار جیتنے کے بعد کانگریس سے ہار جاتی ہے۔ بی جے پی دو بار سے یہاں جیت رہی تھی۔ ویسے بی جے پی نے یہاں جس طرح سابق وزیر اعلیٰ شانتا کمار کا ٹکٹ کاٹا، اس سے بھی اس کی حالت بدتر ہوئی ہے۔ اس وجہ سے کانگریس کے پون کاجل کافی مضبوط نظر آ رہے ہیں۔

حمیر پور میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ انوراگ سنگھ ٹھاکر کی حالت کمزور مانی جا رہی ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کے حامی ہی انوراگ کو ہرانے کی کوشش میں مصروف بتائے جا رہے ہیں۔ شملہ سیٹ پر اپنی کمزور حالت دیکھ کر بی جے پی نے اپنے لگاتار دو بار کے رکن پارلیمنٹ ویریندر کشیپ کا ٹکٹ کاٹ کر سریش کشیپ کو ٹکٹ دیا ہے۔

مدھیہ پردیش:

گزشتہ سال کے آخر میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں ملے ووٹوں کی بنیاد پر تو کھرگون، دھار، رتلام اور دیواس سیٹیں تو کانگریس کو ملنی ہی چاہئیں۔ سامبلی انتخاب میں 8 میں سے کھرگو کی 6 اور دھار کی 6 سیٹیں کانگریس نے جیتی تھیں۔ اسی طرح رتلام کی 5 اور اجین کی 5 سیٹیں کانگریس نے جیتی تھیں۔ اسمبلی انتخاب میں دیواس میں کانگریس اور بی جے پی نے چار چار سیٹیں جیتی تھیں۔

مندسور اور اندور میں اسمبلی انتخاب میں بی جے پی نے بہتر کیا تھا۔ لیکن اندور میں لوک سبھا صدر سمترا مہاجن کا ٹکٹ جس طرح بی جے پی نے کاٹا اس سے بی جے پی حامی ووٹر بھی ناراض بتائے جا رہے ہیں۔ مندسور میں کانگریس نے میناکشی نٹراجن کو امیدوار بنایا ہے اور وہ اچھی حالت میں مانی جاتی ہیں۔

(اعداد و شمار ابھے کمار)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 May 2019, 11:10 AM
next