بی جے پی نے ووٹ کی خاطر سوشانت سنگھ کو 'ہندوستانی اداکار' سے 'بہاری اداکار' بنا دیا: ادھیر رنجن چودھری

کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کا کہنا ہے کہ اداکار سوشانت سنگھ کے لئے انصاف کو بہاریوں کے انصاف سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ ان کے والد کا حق ہے وہ اپنے بیٹے کیلئے انصاف مانگیں، لیکن اس کا فیصلہ عدالت کرے گی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر اور مغربی بنگال کانگریس کے نومنتخب صدر ادھیر رنجن چودھری نے سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کے بعد میڈیا رپورٹنگ اور اداکارہ ریاچکرورتی کے خلاف جاری میڈیا ٹرائل کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی ووٹ کی خاطر اس کا استعمال کر رہی ہے۔

ادھیر رنجن چودھری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”سوشانت سنگھ راجپوت، ہندوستانی اداکا ر تھے اور ہندوستان بھر میں مقبول تھے مگر بی جے پی نے صرف ووٹ کے فائدے کے لئے انہیں بہار کا اداکار بنادیا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ جس طریقہ سے ریا چکرورتی کے خلاف مہم چلائی گئی ہے وہ مضحکہ خیز ہے اور ان کے والد سابق فوجی افسر ہیں، انہوں نے ملک کی خدمت کی ہے۔ ریا چکرورتی بنگالی برہمن ہیں۔

اداکار سوشانت راجپوت کے لئے انصاف کو بہاریوں سے انصاف سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ ان کے والد کا حق ہے وہ اپنے بیٹے کے لئے انصاف مانگیں۔ مگر اس کا فیصلہ عدالت کرے گی کہ کون مجرم ہے مگر میڈیا نے عدالت کا کام سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کے لئے انصاف ہمارے آئین کی سنگ بنیاد ہے۔

ادھیر چودھری نے آگے لکھا ہے کہ ”سوشانت کو خودکشی کے لئے بھڑکانے کے الزام میں ریا چکرورتی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ اسے منشیات کے الزام میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب بی جے پی کے اشارے پر ہورہا ہے تاکہ ملک کے عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا دی جائے۔ ملک کے معاشی بحران اور کورونا صورتحال سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لئے سوشانت کا معاملہ اٹھایا جارہا ہے۔

ایک طرف جہاں سوشانت کی موت کا معاملہ بہار میں انتخابی موضوع بنتا جاہا ہے۔ بی جے پی نے بہار کے مختلف حصوں میں پوسٹر اور بینر لگا کر سوشانت کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ بہار کی حکومت کی سفارش پر سوشانت کی موت کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی گئی ہے اور نتیش کمار بھی اس معاملے میں کھلے عام سوشانت سنگھ کے پیرو کار بنے ہوئے ہیں۔ لیکن بنگال کی سیاست میں اب تک اس پورے معاملے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ادھیر رنجن چودھری نے اس پورے معاملے کو نیا رخ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریا چکرورتی بنگالی برہمن خاتون ہیں اس لئے بی جے پی کے اشارے پر ستایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سوشل میڈیا پر سرگرم بنگالی خواتین نے شکایت کی تھی کہ انہیں بنگالی ہونے کی وجہ س گندی گندی گالیاں دی جا رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔