ووٹ بینک کے لیے بی جے پی نے اترپردیش میں نئے وزیر بنائے: مایاوتی

مایاوتی نے کہا کہ مرکزی اور اتر پردیش حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں سے پورا کسان سماج بہت دکھی اور پریشان ہے

بی ایس پی سربراہ مایاوتی / آئی اے این ایس
بی ایس پی سربراہ مایاوتی / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے اتر پردیش کابینہ میں توسیع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی نے ذات کی بنیاد پر صرف ووٹ بینک کے مقصد سے نئے وزیر بنائے ہیں۔ مایاوتی نے پیر کو ٹوئٹ کیا کہ بی جے پی نے کل اتر پردیش میں ذات کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کے مقصد سے جس کو بھی وزیر بنایا ہے، بہتر ہوتا کہ وہ لوگ اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ جب تک وہ اپنی اپنی وزارت کو سمجھ کر کچھ کرنا بھی چاہیں گے تب تک یہاں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا ’’پسماندہ معاشرے کی ترقی اور اسے اوپر اٹھانے کے لیے ابھی تک موجودہ بی جے پی حکومت نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے ہیں، بلکہ سابقہ بی ایس پی حکومت نے جو بھی کام شروع کئے تھے، ان میں سے بھی زیادہ تر بند کر دیئے گئے ہیں۔ ان کے دوہرے کردار سے ان طبقات کو محتاط رہنا چاہیے۔


مایاوتی نے اتر پردیش کی حکومت پر کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ’’بی جے پی حکومت پورے ساڑھے چار سالوں تک یہاں کے کسانوں کو نظر انداز کرتی رہی اور گنے کی امدادی قیمت میں اضافہ نہیں کیا، جس کی طرف 7 ستمبر کو بی ایس پی کی روشن خیال طبقے کی کانفرنس میں میری طرف سے اشارہ کیا گیا۔ اب الیکشن سے قبل انہیں گنے کے کاشتکار کی یاد آئی ہے جو ان کی خود غرضی کو ظاہر کرتی ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ ’’مرکزی اور اتر پردیش حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں سے پورا کسان سماج بہت دکھی اور پریشان ہے، لیکن اب انتخابات سے کچھ پہلے گنّے کی امدادی قیمت میں اضافہ کرنا کھیتی کسان کے بنیادی مسئلہ کا صحیح حل نہیں ہے۔ ایسے میں کسان ان کے کسی بہکاوے میں آنے والے نہیں ہیں‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔