بہار خصوصی مسلح پولیس بل کیا ہے اور اس پر وبال کیوں ہو رہا ہے؟

یہ بل اگر بہار مقننہ کے دونوں ایوانوں سے منظور کر لیا جاتا ہے تو بہار پولیس کے پاس پورا اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ حراست میں لے سکتی ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: بہار اسمبلی میں منگل کے روز حزب اختلاف کے غیر معمولی ہنگامہ کے بعد حزب اختلاف کی غیر موجودگی میں خصوصی مسلح پولیس بل 2021 کو منظور کر لیا گیا۔ وزیر وجندر پرساد یادو نے کہا کہ بل بہار کی مسلح فورسز کے نام تبدیل کرنے اور انہیں مضبوطی دینے کا کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہار فی الحال اندرونی سلامتی کے معاملہ میں مرکزی حفاظتی دستوں پر منحصر ہے۔ اس قانون کو منظوری ملنے کے بعد مسلح فورسز کی جامع ترقی ہوگی اور ان میں خود انحصاری آئے گی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

بہار خصوصی مسلح پولیس بل 2021 کے منظور ہونے کے بعد پولیس کو اہم طور پر مندرجہ ذیل اختیارات حاصل ہوں گے:

  • بغیر وارنٹ گرفتار کرنے کا اختیار

  • بغیر وارنٹ تلاشی لینے کا اختیار

  • گرفتاری کے بعد کے عمل میں پولیس کے اختیارات میں اضافہ

  • گھناؤنے جرائم کے لئے سزا دینے کا اختیار

  • عدالت پولیس کے کہنے پر ہی جرم کا نوٹس لے سکے گی


اب اسے تفصیل سے سمجھیں، یہ بل اگر دونوں ایوانوں سے منظور ہو جاتا ہے تو پولیس کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ گرفتار کر لے۔ وہیں کسی کے گھر کی یا دیگر ٹھکانے کی تلاشی کے لئے وارنٹ درکار نہیں ہوگا۔ وہیں گرفتاری کے بعد ملزم کے تعلق سے جو قانونی عمل اختیار کیا جاتا ہے اس کے لئے بھی پولیس کو مزید اختیارات حاصل ہوں گے۔ گھناؤنے جرائم کی صورت میں سزا دینے کا اختیار بھی پولیس کو حاصل ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ عدالت کسی بھی معاملہ میں تبھی دخل دے سکے گی جب پولیس اس سے ایسا کرنے کی درخواست کرے گی۔ پولیس کو حاصل ہونے والے انہی اختیارات کی حزب اختلاف کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔

وہیں، وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بل کے منظور ہونے سے قبل ایوان میں ہوئے ہنگامہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے سوالیہ لہجہ میں پوچھا کہ آخر اس بل کے حوالہ سے اتنی غلط فہمی کس طرح پھیل گئی؟ انہوں نے کہا کہ اگر حزب اختلاف بحث میں حصہ لیتی تو تمام سوالوں کے جواب دیئے جاتے۔ انہوں نے اسے چوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسران کو اس کی معلومات پریس کو دینی چاہیے تھی۔


انہوں نے اسمبلی میں پیش آنے والے واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کھڑے ہو کر کیا کیا کروایا گیا! نئے ارکان اسمبلی کو مطلع کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا، ’’مسلح دستوں کو جو اختیارات دیئے جا رہے ہیں ان کی حد متعین ہے۔ دیگر ریاستوں میں بھی ایسا نظام موجود ہے۔ یہ ایسا قانون نہیں جو لوگوں کو تکلیف دے گا، یہ لوگوں کی حفاظت کرنے والا قانون ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔