بہار: لاک ڈاؤن لگے گا یا نائٹ کرفیو، 17 اپریل کو کُل جماعتی میٹنگ میں ہوگا فیصلہ

وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ باہری ریاستوں میں کورونا پھیل چکا ہے، ایسے ماحول میں بہار آنے والے لوگوں کو اپنا کووڈ ٹیسٹ ضرور کرا لینا چاہیے، ورنہ یہ انفیکشن دوسرے لوگوں میں بھی پھیل جائے گا۔

نتیش کمار، تصویر یو این آئی
نتیش کمار، تصویر یو این آئی
user

تنویر

مہاراشٹر اور یو پی کی طرح بہار میں بھی کورونا کے معاملے تیزی کے ساتھ پھیلنے لگے ہیں۔ ایک طرف جہاں جمعرات کو ملک بھر میں لگاتار دوسرے دن 2 لاکھ سے زائد نئے کیسز درج کیے گئے، وہیں بہار میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نئے کیسز کی تعداد 6 ہزار کو پار کر گئی۔ راجدھانی پٹنہ میں بھی انفیکشن کی تعداد نے سبھی ریکارڈ کو توڑ دیا ہے۔ یہاں ایک دن میں 2 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ بہار کے 15 اضلاع کورونا وائرس کی زد میں آ چکے ہیں۔ خراب حالات کو دیکھتے ہوئے گورنر کی صدارت میں کل جماعتی میٹنگ 17 اپریل یعنی ہفتہ کے روز مقرر ہے جس میں موجودہ صورت حال پر غور و خوض ہوگا اور فیصلہ لیا جائے گا کہ نائٹ کرفیو لگایا جائے یا پھر لاک ڈاؤن جیسا سخت قدم اٹھانا پڑے گا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کو کورونا ویکسین کی دوسری خوراک پٹنہ کے آئی جی ایم ایس اسپتال میں لی اور اس دوران انھوں نے کچھ رپورٹرس کے سوالات کے جواب بھی دیے۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا بہار میں نائٹ کرفیو لگایا جائے گا؟ تو انھوں نے کہا کہ ہفتہ کے روز گورنر کی صدارت میں سبھی پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ ہوگی۔ اس میں موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے گا اور صلاح و مشورے کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ فیصلہ لیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر حالات زیادہ خراب ہونے لگے تو ہر ممکن قدم اٹھائے جائیں گے۔

بات چیت کے دوران نتیش کمار نے بہار میں کورونا سے متعلق انتظامات کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ بہار کا محکمہ صحت، محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ پوری انتظامیہ مستعد ہے۔ زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کا کورونا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ باہر سے آ رہے ہیں، ان کی جانچ بھی مستعدی کے ساتھ ہو رہی ہے۔ باہری ریاستوں میں کورونا پھیل چکا ہے، ایسے ماحول میں بہار آنے والے لوگوں کو اپنا کووڈ ٹیسٹ ضرور کرا لینا چاہیے، ورنہ انفیکشن دوسرے لوگوں میں بھی پھیل جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔