بہار 15 سالوں میں بے روزگاری کا مرکز بن گیا: تیجسوی

اپوزیشن لیڈر تیجسوی نے کہا کہ بہار آج بے روزگاری کا مرکز بن گیا ہے۔ لیکن حکومت نوجوانوں کو روزگار دلانے کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

تیجسوی یادو، تصویر یو این آئی
تیجسوی یادو، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

پٹنہ: بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی مدت کار کے 15 سال بے مثال پر کئی سوالات کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ ریاست بے روزگاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تیجسوی یادو نے بدھ کو راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) کے ریاستی دفتر میں 11 فٹ اونچے لالٹین کے آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کے ذریعہ نقاب کشائی کرنے کے بعد تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری، نظم ونسق اور شراب بندی آج ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے۔ اسمبلی میں وزیراعلیٰ نتیش کمار سے جتنے بھی انہوں نے سوالات پوچھے ہیں اس کا جواب نہیں دیا گیا۔

اپوزیشن لیڈر تیجسوی نے کہا کہ بہار آج بے روزگاری کا مرکز بن گیا ہے۔ لیکن حکومت نوجوانوں کو روزگار دلانے کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں مسلسل قتل کے واقعات ہو رہے ہیں اور اب تو صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔


تیجسوی یادو نے کہا کہ کس بات کا 15 سال بے مثال منایا جا رہا ہے۔ گزشتہ 15 سالوں میں بہار بے روزگاری کا مرکز بن گیاہے۔ نظم ونسق کی صورتحال پوری طرح سے خراب ہے۔ انہوں نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کہتے تھے کہ مٹی میں مل جائیں گے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) سے ہاتھ نہیں ملائیں گے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نتیش کمار کا یہ 15 سال بے مثال ہے یقینی طور پر کیوں کہ یہ سب ان کے لئے حصولیابی کے مساوی ہے۔ محض پندرہ دنوں میں ہی زہریلی شراب سے 65 لوگوں کی موت ہوگئی ہے لیکن حکومت اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں 500 لوگوں کا قتل ہوچکا ہے۔ یہی ہے 15 سال بے مثال۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔