بہار: کھاد کی قلت کے سبب کسان پریشان، فصل بربادی کے دہانے پر

رامپور شمال کے سابق مکھیا غوث محمد نے بتایا کہ کَھاد کی قلت کی ایک بڑی وجہ کالابازاری ہے۔ جو بھی کھاد آتی ہے وہ کالابازار ی کی نظر ہوجاتی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

فاربس گنج (ارریہ): پورے سیمانچل خاص طور پر ضلع ارریہ میں کسان کھاد کی قلت سے دوچار ہیں جس کی وجہ سے مکا، گیہوں اور دوسرے اناج کی کھیتی تباہی کے دہانے پرپہنچ گئی ہے۔ کھاد نہ ملنے کی وجہ سے وہ کھیت میں فصل کی آبپاشی نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ ہی کھاد ڈال پا رہے ہیں۔ صبح ہوتے ہی کسان دکان کے سامنے لائن لگاکر کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن انہیں کھاد نہیں ملتی۔ ایک کسان نے بتایا کہ ایک ہفتے سے کھاد کے لئے دوڑ رہے ہیں لیکن اب تک کھاد نہیں مل پائی ہے اور کھاد کے بغیر کھیتی برباد ہو رہی ہے۔

وہیں کھاد بیجنے والے پرتیما ایگرو ایجنسی کے مالک سنجے نے بتایا کہ کھاد کی کافی قلت ہے۔ رات ہی تقریباً 120 بوری کھاد آئی ہے لیکن یہاں لینے والوں کی تعداد پانچ سو سے زیادہ ہے۔ جیسے ہی دکان کھولیں گے مارپیٹ شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو کھاد کی تقسیم کا کوئی نظام بنانا چاہئے۔ تاکہ سب کو نہیں تو کچھ لوگوں کو کھاد مل سکے۔


کسانوں نے بتایا کہ کھاد لینے والوں کے درمیان اب تک دو تین بار مارپیٹ ہوچکی ہے۔ ایک دیگر کسان نے یو این آئی کو بتایا کہ کھاد کے لئے کسان بہت پریشان ہیں کھیتی برباد ہو رہی ہے۔ اگر یہ دکاندار صبح ہی دکان کھول لیتا تو کچھ لوگوں کو کھاد مل جاتی ہے اور اتنی بھیڑ بھی نہیں بڑھتی۔ کئی کسانوں نے کھاد کی کالا بازاری کا بھی الزام لگایا۔ یو این آئی نے دیکھا کہ سیکڑوں کی تعداد میں خواتین اور مرد لائن میں کھڑے تھے اور کھاد کے لئے جدوجہد کر رہے تھے۔ کھاد کے لئے پریشان کسانوں نے کچھ دیر کے لئے روڈ بھی جام کر دیا تھا۔

رامپور شمال کے سابق مکھیا غوث محمد نے بتایا کہ کَھاد کی قلت کی ایک بڑی وجہ کالابازاری ہے۔ جو بھی کھاد آتی ہے وہ کالابازار ی کی نظر ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتظامیہ کی مکمل ناکامی ہے جس کے نکمے پن کی وجہ سے کسانوں کو کھاد نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو کھاد نہیں ملی تو موجودہ فصل برباد ہوجائے گی۔ انہوں نے حکومت سے سپلائی میں اضافہ کرنے کی اپیل کی ہے۔


ارریہ ضلع کانگریس کمیٹی کے نائب صدر اویس یاسین نے کہا کہ فصل کی سینچائی کر دی ہے لیکن کھاد نہ ملنے کی وجہ سے فصل برباد ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمانچل خاص طور پر ضلع ارریہ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور حکومت کھاد کی سپلائی کم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ارریہ میں 20 ہزار میٹرک ٹن کھاد کی ضرورت ہے لیکن سپلائی صرف آٹھ ہزار میٹرک ٹن سے کچھ زیادہ ہوئی ہے جس کی وجہ سے کھاد کے لئے تباہی مچی ہوئی ہے۔

کانگریس سیوا دل کے ریاستی جنرل سکریٹری عابد حسین انصاری نے کہا کہ کھاد کی قلت کی ایک بڑی وجہ کالابازاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوریا کھاد جو 200روپے میں ملتی تھی وہ بلیکٹ مارکیٹ میں چھ سو روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ جو کھاد آٹھ سو روپے میں فروخت ہوتی تھی وہ 1800روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ اولاً کھاد کی سپلائی کم ہے اور دوسری جو بھی کھاد آتی ہے وہ بلیک مارکیٹ میں چلی جاتی ہے۔


ایک کسان مولانا عبدالمتین رحمانی نے بتایا کہ بہت مشکل سے انہوں نے دو سو روپے کی کھاد پانچ سوروپے فی بوری کے حساب سے خریدی ہے۔ انہوں نے کئی دن پہلے فصل کی سینچائی کر دی تھی لیکن کھاد کے سبب پریشان تھا اور مجبوراً بلیک مارکیٹ سے کھاد کی خریداری کرنی پڑی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔