’کورونا کی تیسری لہر کم خطرناک ہوگی، لیکن وقت وقت پر کورونا اپنا اثر دکھاتا رہے گا‘

بی ایچ یو سائنسداں کا کہنا ہے کہ وقت وقت پر کورونا اپنا سر اٹھائے گا، لیکن آخر میں اس کا اثر کم ہو جائے گا، ایک بار اینٹی باڈی کی سطح کم ہو جانے پر کووڈ کو گرفت میں لینے کا امکان بڑھ جائے گا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں انیمل سائنس محکمہ کے سینئر ماہر جینیات پروفیسر گیانیشور چوبے کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کم سنگین اور کم خطرناک ہوگی۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جنھیں ٹیکہ لگایا گیا ہے اور جو اس وائرس سے ٹھیک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کو کووڈ-19 کا ٹیکہ لگایا گیا ہے اور وہ ٹھیک ہو گئے ہیں، وہ تیسری لہر کے دوران محفوظ گروپ کے تحت آئیں گے۔

پروفیسر گیانیشور کا کہنا ہے کہ تیسری لہر کا امکان کم از کم تین مہینے بعد دیکھنے کو ملے گا، لیکن کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے جاری ٹیکہ کاری مہم سے لوگوں کی مدافعتی صلاحیت بڑھے گی اور انھیں لہر کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جیسا کہ ہر تین مہینے میں اینٹی باڈی کی سطح گرتی ہے، تیسری لہر کا امکان ہوتا ہے۔ اس معنی میں اگر اگلے تین مہینوں میں اینٹی باڈی کی سطح گرتی ہے تو تیسری لہر آ سکتی ہے۔ لیکن موجودہ ٹیکہ کاری مہم سے وائرس کے خلاف لڑائی میں مدد ملے گی۔ اگر مرض سے لڑنے کی ہماری صلاحیت 70 فیصد سے زیادہ ہے تو اس گروپ میں کووڈ کا اثر کم ہوگا اور دھیرے دھیرے اس کی رفتار کم ہونے لگے گی۔‘‘


پروفیسر چوبے کا کہنا ہے کہ جہاں وائرس کو روکا نہیں جا سکتا، وہیں شرح اموات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وقت وقت پر کورونا اپنا سر اٹھائے گا، لیکن آخر میں اس کا اثر کم ہو جائے گا۔ ایک بار اینٹی باڈی کی سطح کم ہو جانے پر کووڈ کو گرفت میں لینے کا امکان بڑھ جائے گا۔ پھر بھی محفوظ گروپ میں شرح اموات بہت کم ہے۔‘‘

ایسے حالات میں اگر دو سے چار لاکھ لوگوں میں سے ایک سے دو لوگوں کی موت بھی ہو جائے تو بھی یہ ایک بڑی بات مانی جائے گی۔ پروفیسر چوبے نے کہا کہ ’’یہاں تک کہ اگر ہماری پوری آبادی کورونا وائرس سے متاثر ہو جاتی ہے اور ہم شرح اموات کو 0.1 یا 1 فیصد سے بھی کم رکھتے ہیں، تو ہم یہ جنگ جیتیں گے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔