’سماجی ہم آہنگی کے حساس دور میں کسی ایک کمیونٹی کو نشانہ بنانا مناسب نہیں‘، بھوج شالہ تنازع پر دگ وجے سنگھ کا ردعمل
بھوج شالہ تنازع سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دگ وجے سنگھ نے کہا کہ پورے فیصلے کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور مستقبل کا فیصلہ آئین اور روایات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

مدھیہ پردیش کے دھار واقع تاریخی بھوج شالہ (کمال مولا مسجد) کو مندر قرار دینے کے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے سے جہاں مسلم فریق کو شدید دھچکا لگا ہے وہیں ہندو فریق عدالت کے فیصلے کو اپنی بہت بڑی جیت ظاہر کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس اہم معاملے پر عوامی اور سیاسی سمیت الگ الگ حلقوں سے بھی مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔
کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ دگ وجے سنگھ جمعہ (15 مئی) کو اندور پہنچے۔ جہاں بھوج شالہ/ کمال مولا مسجد سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے فیصلے کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور مستقبل کے عمل کا فیصلہ آئین، قواعد اور روایات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھوج شالہ اے ایس آئی کا محفوظ مقام ہے اور اس سے متعلق کئی مذہبی مقدمات پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں، اس لیے حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گا۔ دگ وجے سنگھ نے یہ بھی کہا کہ سماجی ہم آہنگی کے اس حساس دور میں کسی ایک کمیونٹی کو نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے کی بات کا اعادہ کیا۔
دگ وجے سنگھ نے نیٹ امتحان کے حوالے سے کہا کہ نیٹ میں دھاندلی روکنے کے لیے کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ دی تھی، لیکن حکومت نے اس پر کارروائی نہیں کی، بار بار نیٹ میں ہورہے گھپلے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں چھوٹے لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے، جبکہ اصلی ’بڑی مچھلیاں‘ اب بھی باہر ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ وزیراعظم فوری طور پر وزیر تعلیم کا استعفیٰ لیں اور این ٹی اے چیئرمین کو برخاست کیا جائے۔ ملک کے لاکھوں طلباء کی محنت داؤ پر ہے، اب جواب دہی طے کرنا ضروری ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر نے پٹرول اور ڈیزل کی بڑھی قیمتوں کے بارے میں کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 2014 میں اچھے دن لانے کا وعدہ کیا تھا، اب وہ خود کہہ رہے ہیں کہ اچھے دن نہیں ہیں اور ہم ہر طرح سے بحران کا شکار ہیں، پیٹرول مہنگا، ڈیزل، یہاں تک کہ ہر چیز مہنگی ہورہی ہے۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ کانگریس کے لوگ منگل سوتر چوری کر لے جائیں گے، اب تو کہہ دیا کہ نہ سونا خریدو اور نہ بیرون ملک جاؤ، تیل کم کھاؤ، وہ ترقی یافتہ ہندوستان کی بات کرتے تھے۔ آج پورے ٹر یک سے ہندوستان کی معیشت بگڑتی جا رہی ہے، وہ کہتے تھے کہ روپے کی قدر گر رہی ہے، میں اسے روک دوں گا، لیکن اس وقت ہمارے روپے کی قدر میں جو گراوٹ آئی ہے وہ تاریخ میں کبھی نہیں آئی۔ بے روزگاری ختم نہیں ہوئی، مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔ غریب، غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور چند لوگ امیر ہوتے جا رہے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
