مدھیہ پردیش میں داخل ہوئی ’بھارت جوڑو یاترا‘، راہل گاندھی نے کہا- ’نفرت، تشدد اور خوف کے خلاف ہے یہ پیدل یاترا‘

راہل نے کہا ’’ہم نے یاترا شروع کی تو مخالفین نے کہا کہ ہندوستان 3600 کلومیٹر لمبا اور یہ سفر پیدل طے نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم سرینگر میں ترنگا لہرائیں گے۔ یہ یاترا نفرت، تشدد اور خوف کے خلاف ہے‘‘

تصویر ٹوئٹر / @INCIndia
تصویر ٹوئٹر / @INCIndia
user

قومی آوازبیورو

بھوپال: انڈین نیشنل کانگریس کی 'بھارت جوڑو یاترا' جاری ہے اور آج اس کا 77 واں دن ہے۔ پیدل یاترا مہاراشٹر کے بعد مدھیہ پردیش میں داخل ہو گئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے برہان پور پہنچنے پر تمام راہل گاندھی سمیت تمام ’بھارت یاتریوں‘ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یہ یاترا اگلے 11 دنوں میں ریاست کے 7 اضلاع سے گزرے گی۔

بھارت جوڑو یاتر کے مدھیہ پردیش میں داخل ہوتے وقت راہل گاندھی کا تلک لگاکر روایتی استقبال کیا گیا اور مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر کمل ناتھ کو ترنگا سونپا۔

اس موقع پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کئی مسائل پر بات کی۔ انہوں نے کہا ’’مجھے آج بہت خوشی ہو رہی ہے۔ مدھیہ پردیش میں ہم نے پہلا قدم رکھا ہے۔ آپ سے بہت بات چیت ہوگی اور مسائل پر بات ہوگی۔ ہر ریاست کا مسئلہ تھوڑا الگ ہوتا ہے۔ جیسا یہاں کیلے کے کھیت ہیں اور وہاں کپاس کے کھیت ہیں۔ سو ہر ریاست، ہر ضلع کا مسئلہ الگ ہوتا ہے۔‘‘


انہوں نے مزید کہا ’’ہم ہر روز اوسطاً 25 کلومیٹر طے کرتے ہیں اور اس دوران ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کرتے۔ ہم اپنی بات نہیں رکھتے۔ منہ بند کان کھلے! من کی بات نہیں، ہمارے من کی بات نہیں، آپ کے من کی بات کیا ہے، کسانوں، نوجوانوں، بہنوں، مزدوروں اور چھوٹے کاروباریوں کے من کی بات کیا ہے، وہ ہم دن بھر سنتے ہیں۔ اور پھر اپنے 15 منٹ اور زیادہ سے زیادہ 20 منٹ شام کو اپنی بات رکھتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جب ہم نے یاترا شروع کی تو مخالفین نے کہا تھا کہ ہندوستان 3600 کلومیٹر طویل ہے اور یہ (سفر) پیدل (طے) کیا نہیں جا سکتا اور اب ہم مدھیہ پردیش میں آئے ہیں، 370 کلومیٹر یہاں چلیں گے اور یہ ترنگا سرینگر میں لہرائیں گے۔ یہ سفر ہندوستان میں پھیلائی جا رہی نفرت، تشدد اور خوف کے خلاف ہے۔


اس دوران راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا ’’ہندوستان کی پوری صنعت 3-4 ارب پتیوں کے ہاتھ میں ہے۔ بندرگاہیں، ہوائی اڈے، سڑکیں، ٹیلی کام اور ریلوے ان کے ہاتھ میں جا رہے ہیں۔ ہمیں ایسا ہندوستان نہیں چاہیے۔ یہ ظلم کا ہندوستان ہے۔‘‘

خیال رہے کہ گاندھی صبح مہاراشٹر کے جلگاؤں جامود سے برہان پور ضلع کے بودریلی گاؤں پہنچے۔ وہاں بنجارہ رقص کے ذریعے راہل گاندھی کا استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر کانگریس رہنما اور کارکنان بھی موجود تھے۔

بعد ازاں راہل گاندھی پد یاترا کی شکل میں بودریلی گاؤں سے بھی آگے بڑھ گئے اور یاترا صبح تقریباً 10 بجے کے قریب برہان پور ضلع کے جین آباد پھاٹا پر واقع سینٹ زیویئر انٹرنیشنل اسکول پہنچے گی۔ یہیں یاترا کا ’’ڈے کیمپ‘‘ ہوگارہے گا۔


اس یاترا میں شامل ہونے کے لئے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور ان کے شوہر رابرٹ واڈرا بھی دیر رات برہان پور ضلع پہنچیں گے۔ پرینکا پہلے اندور آئیں گی اور پھر سڑک کے راستے برہان پور پہنچیں گی۔ وہ 24 اور 25 نومبر کو یاترا میں شامل ہونے کے بعد 26 نومبر کو واپس لوٹ جائیں گی۔ ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ، سابق وزیر اعلیٰ دگ وجئے سنگھ، ارون یادو، سریش پچوری اور کئی لیڈران و عہدیداران یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔

راہل گاندھی ریاست میں 12 دنوں کے دوران تقریباً 380 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے چار دسمبر کو اگرمالوا ضلع سے راجستھان میں داخل ہوں گے۔ اس دوران راہل گاندھی برہان پور کے علاوہ کھرگون، کھنڈوا، اندور، اجین اور اگرمالوا اضلاع سے بھی روانہ ہوں گے۔ شری گاندھی برہان پور ضلع کے بعد کھنڈوا ضلع کے جھیری جائیں گے۔ اگلے روز 24 تاریخ کو یاترا بورگاؤں سے کھرگون کے کھیرڈا تک جائے گی۔ 25 تاریخ کو راہل گاندھی کھیرڈا سے مورٹکہ تک کا سفر کریں گے۔


اس کے بعد 26 نومبر ہفتہ کے روز مسٹڑ گاندھی کی یاترا اندور ضلع میں داخل ہوگی۔ یہاں وہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی جائے پیدائش مہو جائیں گے۔ اگلے دن راہل گاندھی مہو سے اندور کا سفر کریں گے۔ 28 تاریخ کو یاترا کا آرام کا دن طے کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی 29 تاریخ کو اندور شہر سے سانور جائیں گے اور 30 تاریخ کو یاترا سانور سے اجین ضلع میں داخل ہوگی اور ایک تاریخ کو بھی اجین میں ہی رہے گی۔ 2 دسمبر کو یاترا کا آغاز اجین کے جھالرا سے ہوگا۔

یہاں سے راہل گاندھی آگر-مالوا کے کاسی بردیہ پہنچیں گے۔ 3 دسمبر کو شری گاندھی اس ضلع کے مہودیا سے لالہکھیڈی تک کا سفر کریں گے جبکہ 4 تاریخ کو یاترا لال کھیڑی سے راجستھان کے جھالاواڑ ضلع میں داخل ہوگی۔

راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا 7 ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہوئی ہے جو مختلف ریاستوں سے ہوتی ہوئی آج مدھیہ پردیش پہنچی ہے۔ وہ کل 150 دن کی یاترا کے بعد کشمیر تک جائیں گے۔ اس دوران کل 3570 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔