بیتیا: اجلاس کی اجازت نہیں ملنے سے دھرنے پر بیٹھے کنہیا کمار

سی پی آئی لیڈر کنہیا کمار بیتیا کے گاندھی میدان میں اجلاس کرنے والے تھے، لیکن انتظامیہ نے نظم ونسق اور سرسوتی پوجا کو دیکھتے ہوئے انہیں ریلی کرنے کی اجازت نہیں دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بیتیا: مغربی چمپارن ضلع کے بیتیا میں شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے) ، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اور قومی مردم شماری رجسٹر( این پی آر) کے خلاف ’جن۔ گن۔ من ۔ یاترا‘ شروع کرنے پہنچے جواہرلال نہرو یونیورسٹی ( جے این یو) اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( سی پی آئی) لیڈر کنہیا کمار کو آج جب اجلاس کی اجازت نہیں ملی تو وہ دھرنے پر بیٹھ گئے۔

بیتیا:  اجلاس کی اجازت نہیں ملنے سے دھرنے پر بیٹھے کنہیا کمار

سی پی آئی لیڈر کنہیا کمار بیتیا کے گاندھی میدان میں اجلاس کرنے والے تھے، لیکن انتظامیہ نے نظم ونسق اور سرسوتی پوجا کو دیکھتے ہوئے انہیں ریلی کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کنہیا کمار بھتہروا واقع گاندھی آشرم میں مہا تما گاندھی کی مورتی پر گلپوشی کرنے کے بعد اجلاس کے لئے آگے جارہے تھے تب پولیس نے انہیں روک دیا۔ اس کے بعد وہ وہیں تقریر کرنے لگے تب سب ڈویژنل افسر چندن کمار سنگھ نے انہیں تقریر کرنے سے منع کر دیا۔ اس پر ان کے حامی ہنگامہ کر نے لگے اور اسی دوران کنہیا کمار اپنی گاڑی پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کرنے لگے۔ اس کے بعد پولیس نے انہیں کچھ دیر کے لئے حراست میں لے لیا۔

اس سے ناراض ان کے حامی گاندھی آشرم کے باہر ہنگامہ کرنے لگے۔ ناراض حامی ’دم ہے کتنا دمن میں تیرے دیکھ لیا ہے دیکھیں گے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ کنہیا کمار نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی انتظامیہ کو اس کی اطلاع دے دی تھی کہ وہ جمعرات سے ’جن گن من یاترا‘ شروع کر نے جارہے ہیں ۔ آج جب وہ یہاں پہنچے تب انتظامیہ کی جانب سے انہیں جانکاری دی گئی کہ شہر میں نظم ونسق کو دھیان میں رکھتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے اجلاس کوکل رات رد کرنے کا حکم دیا ہے۔

سی پی آئی لیڈر کنہیا کمار نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کر کے کہا کہ ”آج باپو۔ دھام (چمپارن) میں گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کر کے غریب۔ مخالف سی اے اے۔ این آر سی۔ این پی آر کی مخالفت میں ایک ماہ تک جن۔ گن من یاترا کی شروعات ہونی تھی۔ سماج کے سبھی طبقوں کے لوگ اس یاترا میں شامل ہونے کے لئے موجود ہیں لیکن انتظامیہ نے کچھ دیر پہلے ہم سب کو حراست میں لے لیا ہے۔

اس سے متعلق ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر نیلیش رام چندردیورے نے کہا کہ کنہیا کمار کو گرفتار یا حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔ نظم ونسق کی وجہ سے انہیں کچھ دیر کے لئے روکا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں آگے جانے کی اجازت دے دی گئی۔ وہ فی الحال نرکٹیا گنج کے لئے روانہ ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل سی اے اے، این آر سی ، این پی آر کے خلاف یاترا شروع کرنے پہنچے کنہیا کمار کو مغربی چمپارن کے چن پٹیا میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ بینر۔ پوسٹر لئے کئی لوگ سڑک کنارے کھڑے تھے۔ جیسے ہی کنہیا کمار کا قافلہ گزرا تو لوگوں نے ’کنہیا گو بیک‘ کے نعرے لگائے۔