مغربی بنگال: تیلنی پاڑہ میں فرقہ وارانہ تشدد اور آگزنی، دفعہ 144 نافذ

چندن نگر پولیس کمشنر ڈاکٹر ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ منگل کو تیلنی پاڑہ کے کچھ علاقوں میں منصوبہ بند طریقے سے مکانات جلائے گئے اور ایک دوسرے پر حملہ کیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: پبلک ٹوائلیٹ اور کنٹیمنٹ زون میں آمدو رفت کو لے کر ہوگلی ضلع کے تیلنی پاڑہ میں دو فرقوں کے درمیان اتوار کے روز تناؤ اور جھڑپ کے واقعات رونما ہوئے تھے، منگل کے روز اچانک شرپسندوں کی ایک جماعت نے گھروں میں آتشزنی، توڑ پھوڑ، لوٹ مار شروع کر دی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں باہرسے لوگ آئے تھے اور گھروں میں آگ لگا رہے تھے۔

تیلنی پاڑہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کو منصوبہ بند بتاتے ہوئے چندن نگر پولیس کمشنر ڈاکٹر ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ منگل کو تیلنی پاڑہ کے کچھ علاقوں میں منصوبہ بند طریقے سے مکانات جلائے گئے اور ایک دوسرے پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سازش رچنے والوں کا پولیس کو علم ہے مگر مزید جانچ جاری ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم ڈاکٹر ہمایوں کبیر نے کہا کہ اس وقت صورت حال کنٹرول میں ہے اور تشدد زدہ علاقے میں پولیس اہلکار پٹرولنگ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ہمایوں کبیر نے آج تیلنی پاڑہ پھاڑی (چھوٹا پولیس اسٹیشن) میں یواین آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن نفاذ کی وجہ سے کچھ خالی الذہن اور بے کار قسم کے لوگ افواہ پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کورونا وائرس کو ایک خاص طبقے سے جوڑنے کی سوشل میڈیا اور میڈیا پر جو نفرت انگیز مہم چلائی جارہی ہے اس کے خراب نتائج اب زمینی سطح پر بھی دیکھنا کو مل رہے ہیں۔ انہوں نے جوٹ مل کے کوارٹرس میں پبلک ٹوائلیٹ ہیں۔ مگر ایک خاص طبقے کو کورونا سے جوڑتے ہوئے انہیں پبلک ٹوائلیٹ کے استعمال سے منع کردیا گیا۔ اس کی وجہ سے دونوں گروپ کے درمیان ہنگامہ آرائی ہوئی اور تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ منگل کو اچانک تشدد کے واقعات رونما ہوگئے۔ جس میں کئی درجن مکانات جلادئیے گئے ہیں۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ پولیس پھاڑی کے محض چند میٹر کی دوری پر بھی مکانات جلائے گئے اور پولیس اس پر قابو پانے میں ناکام رہی۔

ہمایوں کبیر نے کہا کہ اس وقت تیلینی پاڑہ اور دیگر کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن کے ساتھ دفعہ 144 نافذ ہے۔ ہمایوں کبیر نے صحافیوں کو فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرنے سے یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔ اور صحافیوں کے جانے سے بھیڑ جمع ہو جا رہی ہے۔ اس لئے آپ لوگ اندر نہ جائیں۔ تاہم پولیس اسٹیشن کے آس پاس علاقے کے باشندوں بتایا کہ منگل کو ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں پولیس کا رول تماشائی ہے۔ پولیس پھاڑی کے قریب مکانات جلائے جارہے تھے اور پولیس خاموش تماشائی تھی۔

تیلنی پاڑہ کے سماجی کارکن نے بتایا کہ ایس این جوٹ مل کے لائن نمبر 9 اور 12 میں جب بھیڑ نے اچانک مسلمانوں کے مکانات کو جلانے اور نقصانات پہنچانے لگے تو تیلنی پاڑہ میں واقع کچھ غیر مسلموں کے گھروں میں بھی کچھ نوجوانوں نے آگ لگادی ہم لو گ نے جلد ہی مسلم نوجوانوں کو یہ کرنے سے منع کردیا کہ اگر وہ ایسا کررہے ہیں تو ہمیں نہیں کرنا ہے اور ہم ہمیشہ آپس میں مل کررہتے ہوئے آئے ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی قومی جنرل سیکریٹری کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ ہگلی میں ہندؤں کے مکانات جلائے جارہے ہیں اور ممتا بنرجی کی حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ بارک پور سے ممبر پارلیمنٹ نے کل ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ تیلی پاڑہ میں حالات خراب ہیں اگر ممتا حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام رہتی ہے تو ہم اپنے کارکنان کے ساتھ ہگلی روانہ ہوجائیں گے۔ لاکٹ چٹرجی نے کہا کہ ہم چند نگر کے پولیس کمشنر ڈاکٹر ہمایوں کبیر سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ ہماری کال کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیلنی پاڑہ جل رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائی ہے۔

کل وزیر اعلیٰ ممتابنرجی نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد اور تناؤ کا ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف ڈیزازٹر منجمینٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے پولیس افسران سے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے اور اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ممتا بنرجی نے بی جے پی لیڈروں کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران کے دور میں فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر ہندو اور مسلمان کرنے والے سیاست دانوں سے متعلق عوام خود ہی فیصلے کریں۔

اس وقت تیلنی پاڑہ اور آس پاس کے علاقے میں انٹر نیٹ سروس بند ہیں۔ ڈاکٹر ہمایوں کبیر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ جعلی ویڈیو پوسٹ کرکے دعویٰ کر رہے ہیں یہ تیلنی پاڑہ کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لیڈروں کے ذریعہ ایک خاص گرو پ کو نشانے بنائے جانے کے سوال پر کہا ہے کہ جب دو فرقے کے درمیان تناؤ اور تشدد کا ماحول پیدا ہوجائے تو سیاسی جماعت کے لیڈروں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ امن قائم کرنے میں رول ادا کریں اور دو نوں طبقوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کریں، مگر ہمیں یہ کہتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ کچھ لوگ آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب گورنر جگددپ دھنکر نے کل ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فرقہ وارانہ کشیدگی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے حکومت اور پولیس فوری طور پر کارروائی کرے۔

کورونا کے نام پر جس طریقے سے نفرت انگیز مہم چلائی گئی ہے اس کے اثرات اب مقامی سطح پر نظر آنے لگے ہیں اور سالوں سال سے اتحاد و اتفاق کے ساتھ محبت سے رہنے والے اب ایک دوسرے کے جان کے دشمن ہوگئے ہیں۔ کنگا کے کنارے واقع تیلنی پاڑہ میں دو جوٹ مل ہیں ایس این جوٹ مل اور وکٹوریہ جوٹ مل۔ دونوں میں کم وبیش دس ہزار کے قریب افراد کام کرتے ہیں اور ان کا تعلق دونوں طبقے سے ہے۔ ماضی میں اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر ہمیشہ اس علاقے میں امن و امان کا ماحول رہا ہے۔ مگر کورونا وائرس نے سماج و معاشرہ کو مکمل طور پر نفرت زد ہ کردیا ہے اور عدم رواداری کا ماحول ہے اور سیاسی لیڈران اس کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرتے ہیں جب کہ دونوں طرف غریب طبقات کے ہی مکانات جل کر تباہ و برباد ہوئے ہیں۔

Published: 13 May 2020, 5:40 PM