بنگال بی جے پی نے کمار چند بوس کو نئی کمیٹی سے کیا باہر

نیتاجی سبھاش چندر بوس کے خاندان کے رکن کمار چندر بوس جو گزشتہ کمیٹی میں نائب صدر تھے۔ انہوں نے ملک بھر میں ہوئے احتجاجی مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس متنازع قانون کو جلد سے واپس لیا جائے۔

کمار چندر بوس
کمار چندر بوس
user

یو این آئی

کولکاتا: مذہبی بنیاد پر شہری ترمیمی ایکٹ کی مخالفت اور اقلیتوں کے تئیں عدم رواداری کے ماحول پر پارٹی کی تنقید کرنے والے نتیاجی سبھاش چندبوس کے خاندان کے رکن کمار چندر بوس کو بنگال بی جے پی کی نئی ریاستی کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ جب کہ وہ اس سے قبل پارٹی میں نائب صدر کے عہدہ پر فائز تھے۔

کورونا بحران کے اس دور میں بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے نئی ریاستی کمیٹی کا اعلان کیا ہے، تاہم حیرت انگیز طور پر اس کمیٹی میں ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے سابق مرکزی وزیر مکل رائے اور کولکاتا کارپوریشن کے سابق میئر و سابق ریاستی وزیر شوبھن چٹرجی کو بھی شامل نہیں کیا ہے۔ جب کہ نئی کمیٹی میں ممبر پارلیمنٹ ارجن سنگھ جو لوک سبھا انتخابات سے عین قبل ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں، اس کے علاوہ اگنی موتری اور بدھان نگر میونسپل کارپوریشن کے سابق میئر و ترنمول کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی سبیاچی دتہ کو جگہ دی گئی ہے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے ریاستی کمیٹی ممبروں کے ناموں کا اعلان کیا ہے۔ گھوش نے پارٹی ونگ کے عہدیداروں کے نام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ممبر پارلیمٹ لاکٹ چٹرجی کو پارٹی کا جنرل سکریٹری بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اگنی موتری پال کو بی جے پی کے خواتین سیل کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ممبر پارلیمنٹ ارجن سنگھ اور سابق آئی پی ایس آفیسر بھارتی گھوش کو نائب صدر بنایا گیا ہے۔ بدھان نگر کارپوریشن کے سابق میئر سبیاسچی دتہ کو بی جے پی کے ریاستی سکریٹریٹ کا رکن بنایا گیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ کولکاتا کے سابق میئر اور سابق وزیر مملکت شوبھن چٹرجی ابھی بھی بی جے پی میں ہیں۔

نیتاجی سبھاش چندر بوس کے خاندان کے رکن جو گزشتہ کمیٹی میں پارٹی کے نائب صدر تھے۔ بوس نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کو کالعدم کیے جانے، شہریت ترمیمی ایکٹ کو مذہبی بنیاد پر تشکیل دیئے جانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہندوستان کے آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں ہوئے احتجاج مظاہرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس متنازع قانون کو جلد سے واپس لیا جائے۔ اب یہ سوال کھڑا ہونے لگا ہے کہ کیا وہ پارٹی میں رہیں گے یا نہیں۔ 2019 میں انہوں نے جنوبی کولکاتا لوک سبھا سے انتخاب لڑا تھا اور ترنمو ل کانگریس کے امیدواروں کے ہاتھوں ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ترنمول کانگریس میں ممتا بنرجی کے بعد پارٹی میں دوسری پوزیشن پر رہنے والے مکل رائے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد وہ اہم کردار میں تھے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت انہیں اہمیت دے رہی تھی۔ تاہم ریاستی سطح کے لیڈران کے درمیان تال میل کی کمی تھی۔ مکل رائے کو وزیرا عظم مودی اور بی جے پی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی حمایت حاصل ہے۔

next