اسپتالوں میں بیڈ کا بحران، ذمہ دار کون؟ پرینکا گاندھی کا مودی حکومت سے سوال

ذمہ دار کون، تحریک کے تحت کانگریس کی جنرلس سکریٹری پرینکا گاندھی نے بیڈ کی قلت پر مرکزی حکومت سے تیکھے سوال پوچھے اور کہا کہ جس وقت وزیر اعظم جنگ جیت لینے کا اعلان کر رہے تھے ملک میں بیڈز کی کمی تھی

پرینکا گاندھی، ذمہ دار کون / آئی اے این ایس، ٹوئٹر
پرینکا گاندھی، ذمہ دار کون / آئی اے این ایس، ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کورونا کی دوسری لہر کے دران اسپتالوں میں بیڈوں کی کمی پر مرکزی حکومت سے تیکھے سوال پوچھے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ جس وقت وزیر اعظم کورونا سے جنگ جیت لینے کا اعلان کر رہے تھے، اسی وقت ملک میں آکسیجن، آئی سی یو اور وینٹی لیٹروں کی تعداد کم کی جا رہی تھی، لیکن جھوٹے پرچار میں مصروف حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ ستمبر 2020 میں ہندوستان میں 247972 آکسیجن بیڈ دستیاب تھے جو 28 جنوری 2021 تک 36 فیصد کم ہو کر 157344 رہ گئے۔ اسی دوران آئی سی یو بیڈ کی تعداد 66638 سے 46 فیصد کم ہو کر 36008 رہ گئی اور وینٹی لیٹر بیڈ 33024 سے 28 فیصد کم ہو کر 23618 رہ گئے۔


دہلی کی مثال پیش کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ جولائی 2020 میں وزیر داخلہ امت شاہ نے آئی ٹی بی پی کے ایک عارضی طبی مرکز کا افتتاح کیا تھا۔ جس میں دس ہزار بیڈز کا انتظام کیا گیا تھا، 27 فروری 2021 کو یہ مرکز بند ہو گیا۔ دوسری لہر کے دوران اسے پھر سے شروع کیا گیا، مگر صرف 2 ہزار بیڈوں کا ہی انتظام کیا گیا۔

پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت نے کورنا کی وحشت کا ذکر کرتے ہوئے اسپتال میں بیڈوں، آکسیجن وغیرہ کی دستیابی پر خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیا تھا، مگر حکومت کا دھیان کہیں اور تھا!


کرونا کی دوسری لہر کی ہولناکیوں اور عام لوگوں کو درپیش پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اس وقت جب ملک بھر کے لاکھوں افراد اسپتال میں بیڈوں کے لئے گہار لگا رہے تھے، اس وقت آروگیہ سیتو اور دیگر ڈیٹا بیس کسی کام نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کورونا پر فتح کا اعلان تو کر دیا مگر اتنا نہیں کر پائی کہ کسی ایپ پر تمام اسپتالوں میں دستیاب بیڈوں کے ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کر دیتی، تاکہ بیڈ کے لئے چکر لگا رہے لوگوں کو کچھ سہولت فراہم ہو جاتی۔

پرینکا گاندھی نے نظام صحت کے حوالے سے حکومت کی سنجیدگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی 2014 میں حکومت برسراقتدار آئی صحت کے بجٹ میں 20 فیصد کی کمی کرنے والی مودی حکومت نے 15 ایمس بنانے کا اعلان کیا تھا، ان میں سے ایک بھی آج تک کام نہیں کر رہا۔ 2018 کے بعد سے پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی نے ایمس اسپتالوں میں اساتذہ اور دیگر اہلکاروں کی کمی کا معاملہ حکومت کے سامنے رکھ دیا ہے لیکن حکومت نے اسے نظرانداز کر دیا۔


پرینکا گاندھی نے حکومت سے پوچھا کہ تیاری کے لئے ایک سال ہونے کے باوجود مرکزی حکومت نے یہ سارا وقت ’ہم کورونا سے جنگ جیت گئے‘ جیسے غلط بیانات میں کیوں وقت صرف کر دیا اور بیڈوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے کم کیوں کر دی گئی؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماہرین اور پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت سے متعلق انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے مودی حکومت نے ہندوستان کے ہر ضلع میں صحت کی جدید سہولیات کی فراہمی کا کام کیوں نہیں کیا؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔