بارہ بنکی: مسجد میں داخلہ اور نماز پڑھنے پر پابندی سے تنازعہ، مشتعل ہجوم اور پولیس میں جھڑپ، 6 گرفتار

تحصیل انتظامیہ نے بیریکیڈنگ لگا کر مسجد میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی اور نماز پڑھنے پر بھی روک لگا دی۔ اس سے ناراض ہجوم اور پولیس اہلکاروں میں جھڑپ ہوئی

تصویر بشکریہ نیوز ٹریک
تصویر بشکریہ نیوز ٹریک
user

قومی آوازبیورو

بارہ بنکی: الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے غیر قانون مذہبی مقامات کو ہٹانے کا حکم سنائے جانے کے بعد یوگی حکومت اور انتظامیہ حرکت میں ہے اور کئی مذہبی مقامات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اسی ضمن میں بارہ بنکی کی رام سنیہی گھاٹ تحصیل کمپلیکش میں واقعہ مسجد میں بھی انتظامیہ نے نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

نیوز ٹریک ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق تحصیل انتظامیہ نے بیریکیڈنگ لگا کر مسجد میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی اور نماز پڑھنے پر بھی روک لگا دی۔ اس سے ناراض ہجوم اور پولیس اہلکاروں میں جھڑپ ہوئی، جس کے بعد پولیس نے طاقت کا استعمال کر کے انہیں وہاں سے بھگا دیا۔ یو این آئی کے مطابق پولیس نے پتھربازی اور ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ سڑکوں پر موجود مذہبی مقامات کے خلاف کارروائی کر رہی ہے لیکن رام سنیہی گھاٹ تحصیل کمپلیکش میں واقع مسجد نہ تو سڑک پر تعمیر کی گئی ہے اور نہ ہی اسے ہٹانے کا کوئی حکم دیا گیا ہے۔ وہیں تحصیل انتظامہ نے مسجد کا راستہ بند کرنے سے قبل جو نوٹس چسپاں کیا ہے اس میں مسجد کے بغل میں واقعہ رہائش اور بیت الخلا کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔


لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے اسی مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں اور اس کا بجلی کنکشن بھی ہے اور یہ عمارت سنی وقف بورڈ میں رجسٹرڈ بھی ہے، تاہم انتظامہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس موصول ہونے کے دو دن بعد ہی سنی وقف بورڈ کا رجسٹریشن، بجلی کنکشن اور بقیہ ثبوت پولیس کو سونپے گئے، یہ بھی اپیل کی کہ اگر یہاں کے رہائشیوں کو مسجد سے دقت ہے تو اس کا داخلہ دروازہ الگ کر دیں، مگر انتظامیہ نے ایک نہیں سنی۔

ادھر پولیس ذرائع نے یو این آئی کو ہفتے کے روز بتایا کہ تحصیل کالونی کمپلیکس کے ایک کمرہ نما عمارت میں کچھ افراد نماز پڑھنا چاہتے تھے مگر چونکہ یہاں بیرونی افراد کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ تحصیل انتظامیہ کی ممانعت اور سختی سے ناراض ہجوم نے جمعہ کی دیر شام پتھراؤ کر دیا۔ جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور ان پر ربڑ کی گولیوں سے فائرنگ کر کے انہیں بھگا دیا۔ صورتحال کے پیش نظر قریبی تھانوں سے پولیس اور پی اے سی کو طلب کیا گیا۔ رات گئے ڈی ایم اور ایس پی بھی موقع پر پہنچ گئے۔ نظم و نسق کے پیش نظر قصبوں میں پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔


یو این آئی کے مطابق، ایس ڈی ایم نے احاطہ میں بیرونی افراد کے داخلے پر پابندی لگاتے ہوئے چھوٹے دروازے کو بند کرا کر بیریکیڈ لگا دی تھی جس سے ناراض ہو کر جمعہ کی شام ایک طبقے کے افراد جمع ہو گئے۔ پولیس نے انہیں اندر جانے سے منع کر دیا اور سبھی کو واپس کر دیا۔ دیر شام تقریباً 10 بجے ایک مرتبہ پھر ہجوم جمع ہو گیا۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور ربڑ کی گولیوں و آنسو گیس کے گولے داغے۔ اطلاع ملتے ہی پورے قصبے کی دکانیں بند ہو گئیں۔ حالات کے مدنظر دریا آباد، ٹکیٹ نگر، بدوسرائے، اسندرا ، زید پور اور صفدر گنج سمیت متعدد تھانوں کی پولیس اور پی اے سی کو طلب کیا گیا۔ ایس ڈی ایم و سی او نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ دورہ کرکے عوام کو تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ یمنا پرساد نے بتایا ’’تحصیل کے رہائشی کمپلیکس میں بنے ایک کمرے میں کچھ انتشار پسند نماز پڑھنا چاہتے تھے۔ اس میں کچھ مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر گیٹ کو بند کرکے بیریکیڈ کر دیا گیا تھا۔ چند لوگ اس معاملے کو لے کر عدالت بھی گئے، مگر وہاں ان کی اپیل مسترد کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد چند انتشار پسندوں نے وہاں پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ اس معاملے میں پولیس نے چھ افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر لوگوں کی تلاش کی جارہی ہے۔ موقع پر معقول پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے، صورتحال پُر امن ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔