کیلاش وجے ورگیہ سمیت آر ایس ایس کے دو لیڈروں کو اجتماعی عصمت دری معاملے میں ملی ضمانت

بھوانی پور پولیس اسٹیشن میں کیلاش سمیت 3 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ تینوں رہنماؤں نے پیشگی ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

کیلاش وجے ورگیہ، تصویر آئی اے این ایس
کیلاش وجے ورگیہ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کلکتہ: بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور آرایس ایس کے دیگر دو لیڈروں جشنو بوس اور پردیپ جوشی کی 2016 کے اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے عبوری پیش گی ضمانت منظور کرلی ہے۔ ان تینوں کو 25 اکتوبر تک عبوری ضمانت دیدی گئی ہے۔

جسٹس ہریش ٹنڈن اور جسٹس کوشک چندر کی ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ 29 نومبر 2016 کو ایک خاتون نے ان تینوں افراد کے خلاف ایک فلیٹ میں اجتماعی زیادتی کے الزامات عاید کئے تھے۔ خاتون نے شکایت کی تھی کہ اس واقعے کے بعد اسے اور اس کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ دھمکی کے اس الزام کی بنیاد پر 2019 میں سرسونا اور 2020 میں بول پور میں شکایات درج کی گئیں۔ تاہم، پولیس نے سرسونا تھانے میں درج شکایت کو خارج کر دیا۔


خاتون نے 2020 میں علی پور کی نچلی عدالت میں اپیل کرتے ہوئے ان تینوں لیڈروں کے خلاف اجتماعی عصمت دری کا الزام لگایا۔ اس نے جج کے سامنے ایف آئی آر درج کرائی۔ علی پور عدالت نے ایف آئی آر کو مسترد کر دیا۔ اسی سال یکم اکتوبر کو کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس وویک چودھری نے نچلی عدالت کو اپنی اپیل پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی۔ جج نے 8 اکتوبر کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی۔

بھوانی پور پولیس اسٹیشن میں کیلاش سمیت تین افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ تینوں رہنماؤں نے پیشگی ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران، پولیس انتظامیہ کے وکیل نے کہا کہ تحقیقات شروع ہوئے چار دن ہوچکے ہیں۔ سرت بوس روڈ پر اس فلیٹ کے دو سپروائزرز کے بیانات لیے گئے ہیں۔


ان کا کہنا تھا کہ کیلاش وجے ورگیہ سمیت ایک سے زیادہ افراد فلیٹ میں پارٹی کے کام کے لیے آتے تھے۔ تفتیش کے مطابق فلیٹ پون روئیر کے نام پر ہے اور اسے کیلاش وجے ورگیہ نے کرائے پر لیا تھا۔ انہوں نے شکایت کنندہ کو خفیہ بیان دینے کے لیے بھی طلب کیا۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ وہ اس ماہ کی 17 یا 18 تاریخ کو تفتیشی افسران سے ملاقات کریں گی۔ تینوں رہنما ہائی کورٹ کے یکم اکتوبر کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔