بابل سپریو لوک سبھا کی رکنیت سے دیں گے استعفیٰ

بابل سپریو نے کہا کہ میں بدھ کو دہلی پہنچوں گا اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کے لئے وقت مانگوں گا اگر انہوں نے ملاقات کے لئے وقت دے دیا تو میں انہیں اپنا استعفیٰ نامہ پیش کردوں گا۔

بابل سپریو/ آئی اے این ایس
بابل سپریو/ آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کلکتہ: بی جے پی چھوڑ کر ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے سابق مرکزی وزیر بابل سپریو نے آج اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کو لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کرکے آسنسول لوک سبھا حلقے کی رکنیت سے استعفیٰ دیں گے۔ کلکتہ شہر کے کمک اسٹریٹ میں واقع ترنمول کانگریس میں پارٹی کے سینئر لیڈر و ممبر پالیمنٹ سوگتا رائے اور راجیہ سبھا رکن ڈیریک اوبرائن کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابل سپریہ نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے ٹکٹ پر آسنسو ل لوک سبھا حلقے سے انتخاب جیتا تھا اور چوں کہ وہ اب ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں اس لئے میں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بدھ کو دہلی پہنچوں گا اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کے لئے وقت مانگوں گا اگر انہوں نے ملاقات کے لئے وقت دے دیا تو میں انہیں اپنا استعفیٰ نامہ پیش کردوں گا۔

قیاس آرائی ہے کہ ترنمول کانگریس بابل سپریہ کو ارپیتا گھوش کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی راجیہ سبھا کی سیٹ پر انہیں بھیج سکتی ہے۔ ارپیتاگھوش کی رکنیت کی مدت تک 2025 تک تھی۔ تاہم ایک خبر یہ بھی گردش کر رہی ہے کہ بابل سپریہ کو ریاستی وزیر بنایا جاسکتا ہے اور راجیہ سبھا کے لئے ریاست کے باہر کی کسی مشہور شخصیت کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ترنمول کانگریس نے سابق آئی اے ایس آفیسر جواہر سرکار، آسام کی سابق رکن پارلیمنٹ ششمیتا دیو کو راجیہ سبھا بھیج دیا ہے۔


بابول سپریو نے آج کہا کہ ''میں ممتا دیدی، ابھیشیک بنرجی اور ترنمول کانگریس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے مجھے پہلی الیون میں موقع دیا۔'' میں سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کے بارے میں جانتا ہوں۔ میں پچھلے سات سال سے سیاست میں ہوں۔ میرے خیال میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے ترنمول کانگریس میں شامل ہونا ضروری تھا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔