اعظم خان کو ہائی کورٹ سے جھٹکا! جوہر ٹرسٹ کے لئے تحویل میں لی گئی اراضی پر ریاستی قبضہ کے خلاف عرضی خارج

عدالت نے کہا درج فہرست ذات کی زمین پر ضلع مجسٹریٹ کی منظوری حاصل کئے بغیر تحویل میں لی گئی اور شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس زمین پر مسجد تعمیر کرائی گئی ہے

اعظم خان، تصویر آئی اے این ایس
اعظم خان، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: الہ آباد ہائی کورٹ نے سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خان کے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ رام پور کی جانب سے تحویل میں لی گئی 1250 ایکڑ زمین سے اضافی زمین پر ریاست کی جانب سے قبضہ کرنے کے اے ڈی ایم (فنانس) کے فیصلہ کو درست قرار دیا ہے۔ یونیورسٹی کے لئے تقریباً 471 ایکڑ زمین تحویل میں لی گئی تھی, لیکن اب صرف 12.50 ایکڑ زمین پر ہی ٹرسٹ کا اختیار ہوگا۔ عدالت نے ایس ڈی ایم کی رپورٹ اور اے ڈی ایم کے حکم کو چیلنج کرنے والی ٹرسٹ کی عرضی خارج کر دی۔

عدالت نے کہا درج فہرست ذات کی زمین پر ضلع مجسٹریٹ کی منظور حاصل کئے بغیر تحویل میں لی گئی اور شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس زمین پر درس و تدریس کے بجائے مسجد تعمیر کرائی گئی۔ گرام سبھا کے عوامی استعمال کے لئے چک روڑ اور ندی کنارے کی سرکاری زمین بھی تحویل میں لی گئی۔


کسانوں سے جبراً بیعنامہ کرایا گیا، اس پر 26 کسانوں نے سابق وزیر اور ٹرسٹ کے چیئرمین اعظم خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یونیورسٹی 5 سال میں تعمیر ہونی تھی، جس کی سالانہ رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے۔ عدالت نے قوانین اور شرائط کی خلاف ورزی کی بنیاد پر زمین پر ریاستی قبضہ کے فیصلہ میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔