اعظم خان کو عدالت سے نہیں ملی راحت، ضمانت کی عرضی خارج

اعظم خان و دیگر کے ذریعہ جوہر یونیورسٹی میں انیمی پراپرٹی کو ملانے کے الزام میں ضمانت عرضی پر سماعت ہونی تھی، لیکن ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے اس عرضی کو خارج کردیا۔

اعظم خان، تصویر آئی اے این ایس
اعظم خان، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ اعظم خان کے لیے لگاتار بری خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اترپردیش کے ضلع رامپور میں ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے ’انیمی پراپرٹی‘ کو جوہر یونیورسٹی کے احاطے میں شامل کرنے کے ایک معاملے میں اعظم خان کی ضمانت عرضی خارج کر دی ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ضلع رامپور میں اعظم خان و دیگر کے ذریعہ جوہر یونیورسٹی میں انیمی پراپرٹی کو ملانے کے الزام میں ضمانت عرضی پر سماعت ہونی تھی، لیکن ایم پی-ایم ایل اے عدالت کے جج جسٹس آلوک دوبے نے اعظم خان کی ضمانت عرضی کو خارج کر دیا۔ اے ڈی جی سی رام اوتار سنگھ سینی نے اس تعلق سے بتایا کہ اعظم خان پر سال 2019 میں عظیم نگر علاقہ واقع 13.842 ہیکٹیئر زمین کو غیر قانونی طریقے سے قبضہ کر کے یونیورسٹی میں ملا لیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس ضمن میں تھانہ عظیم نگر میں ہی مقدمہ قائم ہوا تھا۔ اس معاملے میں اعظم خان کی بیوی و موجودہ رکن اسمبلی ڈاکٹر تزئین فاطمہ، ان کے بیٹے عبداللہ اعظم، شیعہ وقف بورڈ کے انتظامی افسر احمد زید، وقف کے متولی انور مسعود گڈو وغیرہ بھی شامل ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ اس وقت اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم سیتاپور کی جیل میں قید ہیں۔ اعظم خان کو علاج کے لئے دہلی کے میدانتا اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اعظم خان کی بیوی تزئین فاطمہ اس وقت ضمانت پر باہر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔