کورونا نے ڈیٹنگ کے طریقے بھی بدل دیے

کورونا کی عالمی وبا نے جہاں دنیا بھر کے افراد کے متعدد معمولات زندگی متاثر کیے ہیں، وہیں بالخصوص مغربی ممالک میں ’ڈیٹنگ‘ یا رومانوی تعلقات قائم کرنے کے طریقوں پر بھی اس کا اثر پڑا ہے۔

کورونا نے ڈیٹنگ کے طریقے بھی بدل دیے
کورونا نے ڈیٹنگ کے طریقے بھی بدل دیے
user

Dw

کورونا کی عالمی وبا کے آغاز پر جنیفر شرلاک نے ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے کچھ مردوں سے رابطے کیے اور فردا ًفردا ًان کے ساتھ ابتدائی ڈیٹ پر بھی گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک دوسرے کو جاننے کی خاطر کی جانے والی یہ ابتدائی ملاقاتیں کچھ عجیب رہیں، کیونکہ تب وہ ماسک پہننے پر مجبور تھے جبکہ سماجی رابطوں میں دوری تھی اور عوامی مقامات پر ملنے ملانے سے اجتناب برتا جا رہا تھا۔

جنیفر کا کہنا ہے کہ ایک مرد کے ساتھ ان کی ملاقات کچھ پریشانی کا باعث بھی بنی۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈیٹنگ ایپ پر رابطے کے بعد جب انہوں نے ایک مرد کو اپنے گھر ہی بلا لیا تو ان کا یہ تجربہ اچھا ثابت نہ ہوا۔ اس صورتحال کو انہوں نے کچھ یوں بیان کیا، ”باہر ماسک نا پہنیں تو محفوظ نہیں اور گھر پر ماسک اتار دیں تو بھی محفوظ نہیں"۔


پھر جنیفر نے سوچا کہ کسی ڈیٹنگ ایپ پر کسی مرد سے رابطے کے بعد پہلے آن لائن ویڈیو چیٹ کرنا بہتر متبادل ہو سکتا ہے۔ وہ یہ یقینی بنانا چاہتی تھیں کہ جس سے وہ ملاقات کریں، وہ شخص مناسب ہو۔

پارٹنر کا چناؤ آخر کیسے؟

نیو جرسی کی بیالیس سالہ رہائشی جنیفر شعبہ تعلقات کی کنسلٹنٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ عالمی وبا ختم ہو جانے کے بعد بھی مرد کے چناؤ کی خاطر یہی طریقہ اختیار کریں گی۔


جنیفر ایسی واحد خاتون نہیں، جو اس عالمی وبا کے دوران ڈیٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے پر مجبور ہوئی ہیں۔ امریکا میں اس وبا کی وجہ سے ڈیٹنگ ایپس نے بھی کئی نئے فیچرز متعارف کرا دیے ہیں۔

گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران سخت پابندیوں کے باوجود ڈیٹنگ ایپس کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ لوگ گھروں میں اکیلے رہنے پر مجبور ہوئے تو آن لائن ذرائع کا استعمال زیادہ کر نے لگے۔


ڈیٹنگ ایپ ٹنڈر(Tinder) نے سن دو ہزار بیس کو اپنا مصروف ترین سال قرار دیا ہے۔ اسی طرح ایک اور ڈیٹنگ ایپ Hinge کے مطابق سال دو ہزار انیس کے مقابلے میں سن دو ہزار بیس میں اس کا ریونیو تین گنا زیادہ ہو گیا۔ اس کمپنی کو توقع ہے کہ رواں برس ان کا منافع مزید دوگنا ہو جائے گا۔

ویڈیو چیٹ کا آپشن

گزشتہ ماہ ہی ٹنڈر نے ایسے فیچرز متعارف کرائے، جن کی مدد سے اس کے صارفین ایک دوسرے کو آن لائن ہی بہتر انداز میں جان سکتے ہیں۔ اب لوگ اس پلیٹ فارم پر ویڈیو پروفائل بھی شیئر کر سکتے ہیں اور حقیقی ملاقات سے قبل ویڈیو چیٹ بھی کر سکتے ہیں۔


ماہر سماجیات اور ڈیٹنگ ایپس کے امور پر نظر رکھنے والی جیس کاربینو کا کہنا ہے کہ ماضی میں ڈیٹنگ ایپس کے صارفین ویڈیو کے ذریعے رابطے سے گریز کرتے تھے کیونکہ وہ اسے ضروری سمجھتے ہی نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ البتہ اب اس وبا کی وجہ سے لوگ ملاقات سے قبل پہلے اپنی مکمل تیاری کرنا چاہتے ہیں۔

کاربینو کے مطابق ایک نئی پیشرفت یہ بھی نوٹ کی گئی ہے کہ آن لائن ڈیٹنگ کرنے والے افراد اب صرف شب گزاری کے علاوہ گہرے اور طویل المدتی تعلقات کے خواہاں ہیں۔


جنیفر بھی اب طویل المدتی تعلق کی تلاش میں ہیں۔ کاربینو کا کہنا کہ مغربی دنیا کی مصروف زندگی میں لوگوں کے پاس وقت کم ہے اور اسی لیے آن لائن پلیٹ فارمز پر ساتھیوں کی تلاش کو بہتر تصور کرتے ہیں، جو واقعی آج کل کے دور میں ایک بہترین طریقہ ثابت ہو رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔