ایودھیا زمین گھوٹالہ: یوگی حکومت کی ہدایت پر جانچ شروع، تفتیش کاروں کی جانبداری پر کانگریس کا سوال

زیر تعمیر رام مندر کے احاطے کے نزدیک کچھ سستے داموں پر زمین خریدنے کے معاملے میں ریاستی حکومت کی ہدایت پر جانچ شروع کر دی گئی ہے، تاہم پرینکا گاندھی نے تفتیش کاروں کی جانبداری پر سوال اٹھایا ہے

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اتر پردیش کے ضلع ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر کے احاطے کے نزدیک کچھ سیاسی لیڈروں، افسران اور ان کے رشتہ داروں کے ذریعہ سستی قیمتوں پر زمین خریدنے کے معاملے میں ریاستی حکومت نے جمعرات کو جانچ شروع کر دی ہے۔

اڈیشنل چیف سکریٹری (ریونیو) منوج کمار سنگھ نے یواین آئی کو بتایا کہ وزیر اعلی دفتر کے ذریعہ اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ کی ہدایت کے فورا بعد جانچ کی کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ملحوظ رہے کہ حال ہی میں ایک میڈیا رپورٹ میں اس معاملے کے انکشاف کے بعد یوپی حکومت نے بدھ کو پورے معاملے کی جانچ کا حکم دیا تھا۔


ادھر، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران تفتیش کاروں کی جانبداری پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت نے زمین کی خرید و فروخت میں ہونے والی بے ضابطگی کے حوالہ سے جانچ کی بات تو کی ہے لیکن اگر یہ جانچ ضلع مجسٹریٹ سطح پر کی جاتی ہے تو سب کو معلوم ہے کہ کیا نتیجہ نکلے گا۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ ہائی کورٹ کے حکم پر تشکیل دیا گیا تھا لہذا چندے کی ہیرا پھیری اور زمین خرید میں ہونے والے گھوٹالہ کی جانچ بھی ہائی کورٹ سطح پر ہی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھگوان رام اخلاقیات کی علامت ہیں لیکن بی جے پی لیڈران نے رام کے نام پر بھی گھوٹالہ انجام دے دیا۔


میڈیا رپورٹ میں ایودھیا میں پہلے سے ہی جانچ کے دائرے والی ایک ٹرسٹ کی زمین کو کچھ لیڈروں، افسران اور ان کے رشتہ داروں کے ذریعہ سستی قیمتوں پر خریدنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔اس کے فورا بعد ہی اپوزیشن جماعتوں نے اس کی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے کا نوٹس لیتےہوئے وزیر اعلی دفتر نے اسپیشل سکریٹری (ریونیو) رادھے شیام مشرا کو پورے معاملے کی جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

اس معاملے سے متعلق موصول جانکاری کے مطابق ایودھیا کی ایک ٹرسٹ کی زمین کو مقامی ایم ایل اے، میئر اور اس وقت کے کمشنر کے رشتہ دار پر ریونیو افسران سے مل کر کم قیمتوں پر زمین خرید نے کا الزام ہے۔متعلقہ ٹرسٹ کے ذریعہ خریدی گئی زمین میں ضوابط کی خلاف ورزی کئے جانے کی ساز باز سالوں سے ہی چل رہی تھی۔


ٹرسٹ پر الزام ہے کہ اس نے ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر کے پانچ کلو میٹر کے دائرے میں ایس سی سماج سے تعلق رکھنے والے افراد سے کچھ سال پہلے زمین خریدی تھی۔ اس معاملے کی جانچ پہلے سے چل رہی تھی کہ دررمیان میں ہی سال 2019 میں رام مندر کی تعمیر کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا جس کے بعد ایودھیا کے کچھ افسران اور لیڈروں کے رشتہ داروں کے ذریعہ اس زمین کو بازار قیمت سے کم قیمت پر وہاں زمینیں خرید لیں۔اس کا انکشاف بدھ کو ایک میڈیا رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Dec 2021, 9:40 AM