’تارا کول بلاک‘ کی نیلامی باعث فکر، پی ایم مودی کی حمایت سے ماحولیات کی ہو رہی تباہی: کانگریس
جئے رام رمیش نے بتایا کہ جنگل کے 10 لاکھ درختوں کو پوری طرح کاٹ دیا جائے گا۔ لیمرو ایلیفینٹ ریزرو کے آس پاس کانکنی ہوگی، جس سے ہندوستانی قومی وراثت ہاتھی کی آمد و رفت پر خاطر خواہ اثر پڑے گا۔

’تارا کول بلاک‘ کی نیلامی معاملہ میں کانگریس نے کچھ اہم حقائق سامنے رکھتے ہوئے پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس معاملہ میں بیان جاری کرتے ہوئے سب سے پہلے تو یہ ظاہر کیا ہے کہ تارا کول بلاک کی نیلامی میں فاتح کمپنی دراصل اڈانی انٹرپرائزیز لمیٹڈ سے جڑی ہوئی ہے۔ بعد ازاں انھوں نے نیلامی کے اس قدم سے ماحولیات کو ہونے والے ممکنہ نقصانات سے متعلق تفصیل پیش کی ہے۔
اپنے بیان میں جئے رام رمیش نے لکھا ہے کہ ’’مرکزی حکومت نے حال ہی میں چھتیس گڑھ کے حیاتیاتی تنوع سے بھرپور ہسدیو-ارنیا ایکوسسٹم میں تارا کول بلاک کی نیلامی کی ہے۔ اس نیلامی میں فاتح سی جی سن-گیس اینڈ کیمیکل لمیٹڈ نام کی کمپنی ہے، جو مندرا سنترجی لمیٹڈ کی مکمل ملکیت والی سبسیڈیری ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی مطلع کیا ہے کہ ’’مندرا سنرجی لمیٹڈ خود اڈانی انٹرپرائزیز لمیٹڈ کی مکمل ملکیت والی سبسیڈیری ہے... جو موڈانی کاروبار گروپ کے تاج کا پتھر ہے۔‘‘ اس حقیقت کو پیش کرنے کے بعد کانگریس لیڈر نے کول بلاک نیلامی کے فیصلہ سے متعلق کچھ اہم باتیں سامنے رکھی ہیں۔
جئے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کول بلاک نیلامی معاملہ کو 3 اہم باتوں کو مدنظر رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ وہ 3 باتیں ہیں...
26 جولائی 2022 کو چھتیس گڑھ اسمبلی نے اتفاق رائے سے ایک تجویز پاس کر مطالبہ کیا تھا کہ ہسدیو-ارنیا میں اب کسی بھی کول بلاک کا الاٹمنٹ یا نیلامی نہ ہو۔
16 جولائی 2023 کو ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کر واضح طور پر کہا تھا کہ ہسدیو-ارنیا میں کسی بھی نئی کانکنی کے الاٹمنٹ یا ڈیولپمنٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
19 اکتوبر 2023 کو مرکزی وزارت کوئلہ نے تارا سمیت 40 کول بلاکس کو نیلامی کے عمل سے ڈینوٹیفائی کر دیا تھا۔
مذکورہ بالا 3 اہم تاریخی حقائق سامنے رکھنے کے بعد جئے رام رمیش نے بتایا کہ گزشتہ 15 سالوں سے مقامی قبائلی و دیگر طبقات گرام سبھا کی تجاویز، عوامی مہموں، دھرنوں اور احتجاجی مارچوں (جن میں رائے پور تک نکالا گیا مارچ بھی شامل ہے) کے ذریعہ اپنے جنگلوں اور ان جنگلوں پر منحصر اپنے ذریعۂ معاش کی سیکورٹی کے مطالبہ پر مستقل جدوجہد کر رہے ہیں۔ تارا کول بلاک تقریباً 5000 ایکڑ رقبہ میں پھیلا ہے، جس میں 4000 ایکڑ سے زیادہ گھنا جنگل ہے۔ ساتھ ہی کانگریس لیڈر نے کہا کہ جنگل کاٹے جانے کے بدلے کسی دوسری جگہ درخت لگانا اپنے آپ میں ہی ایک بے کار سوچ ہے۔ چاہے جتنی بھی کوشش کر لی جائے، اتنے عظیم قدرتی جنگلی خطہ کو قصداً تباہ کیے جانے کا ازالہ کبھی نہیں ہو سکتا۔
جئے رام رمیش نے بتایا ہے کہ اس جنگل کے 10 لاکھ درختوں کو پوری طرح کاٹ دیا جائے گا۔ لیمرو ایلیفینٹ ریزرو کے چاروں طرف کانکنی ہوگی، جس سے ہندوستانی قومی وراثت ہاتھی کی آمد و رفت کے راستے پر سنگین اثر پڑے گا، جبکہ ہاتھیوں کی تعداد میں کمی کا بحران پہلے ہی بنا ہوا ہے۔ کئی دیگر نسلیں بھی اس سے خطرے میں پڑ جائیں گی، جن میں سے کچھ پہلے ہی سنگین طور سے پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اپنے بیان کے آخر میں کانگریس رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ ’’تارا بلاک میں کانکنی، جس کا نام بدل کر ’تارا (ریوائزڈ)‘ کر دیا گیا ہے، حالانکہ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، یہ اس بات کی مزید ایک مثال ہے کہ کس طرح خود وزیر اعظم کی مکمل حمایت سے ماحولیات کی تباہی ہو رہی ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
