تین کشمیری طلبا کو سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی کوششیں ناقابل قبول: نیشنل کانفرنس

نیشنل کانفرنس پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کالج حکام نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ مذکورہ تین کشمیری طلبہ نے پاکستان کے حق میں کسی بھی قسم کی نعرے بازی نہیں کی۔

عمران نبی ڈار (تصویر سوشل میڈیا)
عمران نبی ڈار (تصویر سوشل میڈیا)
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس نے آگرہ میں تین کشمیری طلبہ کو بی جے پی کارکنوں کے کہنے پر گرفتار کرنے اور پھر آگرہ کورٹ کے احاطے میں وکلا کی طرف سے ان کشمیری بچوں کا زدکوب کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کشمیر اور دلی میں مزید دوری کا سبب بن رہے ہیں۔

پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کالج حکام نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ مذکورہ تین کشمیری طلبہ نے پاکستان کے حق میں کسی بھی قسم کی نعرے بازی نہیں کی اور ان کے خلاف بی جے پی سے وابستہ کارکنوں کی شکایت پر کیس درج کر کے گرفتار کیا گیا ہے اور کالج حکا م نے ساتھ ہی پولیس سے مذکورہ بی جے پی کارکنوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے جنہوں نے کالج کے اندر آکر سٹاف اور طلبہ کو ہراساں کیا ہے۔


پارٹی ترجمان نے کہا کہ ’’لیکن پولیس نے بی جے پی کارکنوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے تین معصوم کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ کیا بھاجپا کارکنان پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا اور کیا پولیس بھاجپا کارکنوں کے طابع کام کرتی ہے؟‘‘ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یو پی پولیس کالج حکام کی یقین دہانی کے بجائے بھاجپا کارکنوں کے کہنے پر کشمیری طلبہ کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

ترجمان نے آگرہ کورٹ احاطے میں چند وکلا کی طرف سے مذکورہ کشمیری طلبہ کو عدالت میں پیش کرتے وقت زد و کوب کرنے کی کارروائی اور پولیس کی طرف سے خاموشی تماشائی رہنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اتر پردیش انتخابات کے پیش نظر برسراقتدار لوگ ان کشمیری طلبہ اپنے حقیر مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔