آرین خان کو مزید ایک شب جیل میں ہی گزارنی ہوگی، ’منت‘ کر رہا بے صبری سے انتظار

آرین خان کے سامنے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ پیشگی اجازت کے بغیر وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے، اور وہ سوشل میڈیا سمیت میڈیا کے سامنے کارروائی کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دے سکتے۔

فائل تصویر، آئی اے این ایس
فائل تصویر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بالی ووڈ کے مشہور و معروف اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کی جیل سے رہائی آج ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ اب ہفتہ کی صبح ہی انھیں رہائی مل پائے گی۔ آج کاغذات جیل پہنچنے میں تاخیر ہو گئی جس کی وجہ سے شاہ رخ کے گھر ’منت‘ پر موجود لوگوں کا انتظار مزید ایک دن طویل ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیشن کورٹ سے ذاتی مچلکہ لینے کے بعد رہائی کا آرڈر شام 5.30 بجے تک آرتھر روڈ جیل نہیں پہنچ سکا۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق اداکارہ جوہی چاولہ نے ممبئی کروز ڈرگز کیس میں 23 سالہ آرین کے لیے بانڈ جمع کرایا۔ جوہی ’راجو بن گیا جنٹلمین‘ میں پہلی بار شاہ رخ کے ساتھ نظر آنے کے بعد سے ہی ان کی دوست ہیں۔

واضح رہے کہ ممبئی ہائی کورٹ نے جمعرات کو اداکار کے بیٹے آرین کو 26 دن کی حراست کے بعد ضمانت دے دی۔ حالانکہ آرین ہفتہ کو ہی اپنے گھر ’منت‘ واپس پہنچ سکیں گے۔ اس درمیان جوہی چاؤلہ ایڈوکیٹ ستیش مانشندے کے ساتھ سیشن کورٹ میں حاضر ہوئیں۔ مانشندے نے کہا کہ ’’ضمانت کی رسمی کارروائیاں مکمل ہو گئی تھیں۔ جوہی چاؤلہ کا پرسنل بانڈ قبول کر لیا گیا۔ ہم اب آگے کی کارروائی کر رہے ہیں۔‘‘ آرین کو رہا کرنے کا سیشن کورٹ کا باضابطہ حکم 5.30 بجے سے پہلے جیل حکام تک نہیں پہنچا، جیسا کہ زیر سماعت مقدمات کے لیے ضروری ہے۔ جس کی وجہ سے شاہ رخ خان کے بیٹے کو ایک اور رات جیل میں گزارنی پڑے گی۔


بامبے ہائی کورٹ نے جمعہ کو آرین کی رہائی کا حکم جاری کیا اور اسے ایک لاکھ روپے کی ضمانت پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ضمانت منظورکرتے وقت عائد شرائط پر اپنا ایگزیکٹو آرڈر نہیں دیا ہے۔ اس معاملے کے ملزم آرین کے اب ہفتہ کو جیل سے باہر آنے کا امکان ہے۔ جسٹس این وی سامبرے نے اپنے پانچ صفحات پر مشتمل حکم میں آرین اور ان کے دو دوستوں ارباز مرچنٹ اور من من دھامیچا کو ہدایت دی کہ وہ 'اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے' یا شریک ملزمان یا ملتے جلتے افراد سے رابطہ قائم نہ کرنے یا اسی طرح کی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو فون نہ کرنے کی بھی ہدایت دی۔

آرین پیشگی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں جا سکتے اور وہ سوشل میڈیا سمیت میڈیا کے سامنے کارروائی کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دے سکتے۔ انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے تفتیشی افسر کو بتائے بغیر ممبئی نہ چھوڑیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔