پدم شری ایوارڈ کے بعد حاجی رام کڑو کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی کوشش، کانگریس نے اُٹھائے سوال

کانگریس نے کہا کہ ’’پدم شری ایوارڈ ملنے کے فوراً بعد اس طرح کا اعتراض سیاسی مقاصد پر سوال اٹھاتا ہے اور جمہوری حقوق سے متعلق ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پورے عمل کی غیر جانبداری سے تحقیقات کی جائے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>فوٹو سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

گجرات کے جوناگڑھ میں پدم شری ایوارڈ یافتہ گلوکارحاجی رام کڑو کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی کوشش پر سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ ریاست میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل کے دوران فارم 7 کے تحت ان کے نام پراعتراض درج کرایا گیا ہے۔ اس درخواست کے بعد اپوزیشن نے عمل پرسخت سوالات اٹھائے ہیں۔ حاجی رام کڑو نام سے مشہور میرحاجی بھائی قاسم بھائی گجرات کے مشہور لوک گلوکار ہیں۔ 80 سالہ فنکار اپنے ڈھولک نواز کے ساتھ بھجن، سنت میوزک، غزل اور قوالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشہورپیں۔

غور طلب ہے کہ 77 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پرانہیں پدم شری ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ دریں اثنا جوناگڑھ کی ووٹر لسٹ سے ان کا نام ہٹانے کے لیے ایک درخواست سامنے آئی۔ یہ اعتراض ریاست میں جاری ایس آئی آرعمل کے تحت فارم 7 کے ذریعے داخل کیا گیا۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ حاجی رام کڑو مستقل طور پر نقل مکانی کر چکے ہیں اس لیے ان کا نام ووٹر لسٹ سے نکالا جانا چاہئے۔ اس دعوے پر سیاسی اور ثقافتی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔


الزام ہے کہ بی جے پی کے ایک مقامی کونسلر نے فارم 7 داخل کرکے یہ اعتراض اٹھایا۔ کانگریس رہنماؤں نے اس قدم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حاجی رام کڑو کئی دہائیوں سے جوناگڑھ میں رہ رہے ہیں اور ایک سرگرم شہری ہیں۔ کانگریس کے ترجمان منیش دوشی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ سے گجرات، ملک اور دنیا میں اپنے فن کے ذریعے پہچان بنانے والے فنکار کا نام ہٹانے کی کوشش تشویشناک ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعتراض کی بنیاد پر نظرثانی کی جائے اور پورے عمل کی غیر جانبداری سے تحقیقات کی جائے۔ کانگریس نے کہا کہ پدم شری ایوارڈ ملنے کے فوراً بعد اس طرح کا اعتراض سیاسی مقاصد پر سوال اٹھاتا ہے اور جمہوری حقوق سے متعلق ایک سنگین مسئلہ ہے۔


کانگریس نے اس تنازعہ کو ایک الگ واقعہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔ منیش دوشی نے بتایا کہ اس سے پہلے پدم شری سے نوازے گئے مزاحیہ اداکار شہاب الدین راٹھوڑ کے معاملے میں بھی ایسا ہی چیلنج سامنے آیا تھا۔ راٹھوڑ نے کہا تھا کہ فارم 7 ان کی رضامندی کے بغیر ان کے نام پر داخل کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ مناسب تصدیق کے بغیر کسی کا ووٹر رجسٹریشن منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

انتخابی قوانین کے مطابق فارم 7 کے ذریعے نام ہٹانے پر اعتراض کیا جا سکتاہے لیکن افسران پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دعوؤں کی تصدیق اور متعلقہ شخص کو جواب دینے کا موقع فراہم کریں۔ کانگریس پارٹی کا الزام ہے کہ ایس آئی آر عمل کے دوران ریاست بھر سے ناموں کو ہٹانے کی ہزاروں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ پارٹی نے شفافیت اور اعتراض کے عمل کے مبینہ غلط استعمال کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ چیف الیکٹورل آفیسر نے اب تک حاجی رام کڑو کے معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔