’جس وقت راجیہ سبھا میں مودی 97 منٹ تک جملے پھینک رہے تھے، اسی وقت...‘، کمل کی دردناک موت پر کانگریس کا حملہ
کانگریس کا کہنا ہے کہ کل راجیہ سبھا میں جب مودی 97 منٹ تک جملے پھینک رہے تھے، ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب دکھا رہے تھے، اسی وقت کمل دفتر سے گھر جاتے وقت دہلی جل بورڈ کے بنائے گڈھے میں گر کر مر گیا۔

دہلی کے جنک پوری علاقہ میں دہلی جَل بورڈ کے ذریعہ بنائے گئے ایک گڈھے میں گر کر کمل نامی نوجوان کی موت نے انتظامیہ کی لاپروائی کو ایک بار پھر سامنے لا دیا ہے۔ وہ نوجوان دفتر سے اپنے گھر بذریعہ موٹر سائیکل جا رہا تھا، تبھی اس گڈھے میں گر گیا اور پھر ابدی نیند سو گیا۔ اس معاملہ میں کانگریس نے بی جے پی حکومت اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس نے کمل کی موت کے لیے بی جے پی کے سسٹم کو ہی ’قاتل‘ قرار دیا ہے۔
کانگریس ترجمان اور سینئر لیڈر سپریا شرینیت نے اس تعلق سے ویڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں وزیر اعظم مودی پر تلخ انداز میں حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’جس وقت کل راجیہ سبھا میں نریندر مودی 97 منٹ تک جملے پھینک رہے تھے، ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب دکھا رہے تھے، چوتھی معیشت کا ڈھول پیٹ رہے تھے، اُسی وقت دہلی کا ایک نوجوان کمل دفتر سے اپنے گھر جاتے وقت دہلی جَل بورڈ کے بنائے گڈھے میں گر کر مر گیا۔‘‘ اس ویڈیو میں وہ پی ایم مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال پوچھتی ہیں کہ ’’آپ کو فرق پڑتا ہے کیا مودی جی؟‘‘
اس معاملہ میں کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہندوستان میں پھیلی لالچ اور لاپروائی کی وبا آج پھر ایک نوجوان کی جان لے گئی۔ ایک بیٹا، ایک خواب، والدین کی پوری دنیا... سب کچھ ایک جھٹکے میں اجاڑ دیا گیا۔‘‘ اس پوسٹ میں وہ سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’یہ حادثہ نہیں، قتل ہے... اور قاتل ہے جوابدہی سے بھاگتا اقتدار۔ اصل قاتل سڑک نہیں، غیر ذمہ دار اقتدار ہے۔ کیونکہ یہاں نہ استعفیٰ ہوتا ہے، نہ سزا ملتی ہے، نہ کسی کا ضمیر بیدار ہوتا ہے۔‘‘
بی جے پی حکومت میں پیش آئے کچھ دیگر واقعات کا ذکر بھی راہل گاندھی نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’اندور کا زہریلا پانی، نوئیڈا میں یوراج کی جان لینے والی سڑک، گرتے پُل، ٹکراتی ٹرینیِ دم گھونٹتی آلودگی... یہاں کوئی جوابدہی نہیں ہے... اور جب تک جوابدہی نہیں ہوگی، تب تک کوئی نہ کوئی لالچ کی وبا کا اگلا شکار بنتا رہے گا۔‘‘ جنک پوری واقعہ پر کانگریس کے ’ایکس‘ ہینڈل سے کئی پوسٹ جاری کیے گئے ہیں، جس میں برسراقتدار طبقہ اور انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس دردناک واقعہ کے تعلق سے دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے بھی سخت بیان جاری کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’دہلی میں حکومت کی انتظامی لاپروائی کے سبب جنک پوری اسمبلی میں جَل بورڈ کے گڈھے میں گرنے سے بائک سوار 25 سالہ نوجوان کی موت کے لیے بی جے پی کی ریکھا گپتا کو سیدھے طور پر ذمہ داری لینی چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’گزشتہ مہینے میں نوئیڈا میں بلڈنگ کے 30 فٹ گہرے بیسمنٹ میں یوراج مہتا کی موت ہونے کے باوجود دہلی حکومت نے سبق حاصل نہیں کیا۔ گزشتہ ایک سال میں بی جے پی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور وزراء بار بار سڑکوں کے گڈھوں کو بھرنے اور دہلی جَل بورڈ کے لیے کروڑوں روپے کے منصوبہ کا اعلان کر چکے ہیں، لیکن حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔‘‘
دیویندر یادو کا کہنا ہے کہ نوجوان کی موت پر جنک پور کے رکن اسمبلی آشیش سود ہمدردی ظاہر کر کے دہلی جَل بورڈ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی جگہ سی سی ٹی وی فوٹیج، جانچ اور دیگر لاپروائی والے بیانات دے رہے ہیں، جبکہ وہ دہلی حکومت میں وزیر ہیں۔ ان کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی لیڈران میں لوگوں کے تئیں ہمدردی نہیں ہے، انھیں صرف اقتدار میں رہنا ہے۔ دہلی کانگریس صدر یہ بھی کہتے ہیں کہ رات میں بائک سوار کا گڈھے میں گرنے سے واضح ہو گیا کہ گڈھے کو بیریکیڈ سے گھیرا نہیں گیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو ایک نوجوان کی موت نہیں ہوتی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔