مندر میں پانی پینے پر پٹائی کے شکار آصف کو ملی 10 لاکھ روپے کی معاشی مدد

فنڈ اکٹھا کرنے والے آن لائٹ پلیٹ فارم ’کیٹو‘ نے بتایا کہ آصف کو معاشی مدد پہنچانے کے لیے مہم چلائی گئی تھی جس میں 648 لوگوں نے تعاون کیا اور صرف دو دنوں میں ہی تقریباً 10 لاکھ روپے جمع ہو گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

اتر پردیش کے غازی آباد واقع ڈاسنا میں فرقہ واریت کے شکار ہوئے مسلم بچہ آصف کو کراؤڈ فنڈنگ یعنی عوامی تعاون کی شکل میں 10 لاکھ روپے کی معاشی مدد ملی ہے۔ اس بات کی جانکاری لوگوں سے مالی تعاون اکٹھا کرنے والے آن لائن پلیٹ فارم ’کیٹو‘ نے دی۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق کیٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’حقائق کی جانچ کرنے والی ویب سائٹ اَلٹ نیوز کے ایک بانی نے لڑکے کے اہل خانہ کو مالی مدد دینے اور اس کی تعلیم کے لیے جمع کرنے کی اس مہم کو شروع کیا تھا۔ اس میں 648 لوگوں نے تعاون کیا اور صرف دو دنوں میں ہی تقریباً 10 لاکھ روپے جمع ہو گئے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں آصف کی پٹائی کا منظر دکھائی دیا تھا۔ تشدد آمیز وائرل ویڈیو میں ملزم شرنگی نندن یادو پہلے بچے سے اس کا نام پوچھتا ہے۔ بچہ اپنا نام آصف بتاتا ہے۔ پھر اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ مندر میں کیا کرنے کے لیے گیا تھا۔ بچے نے جواب دیا کہ ’’میں پانی پینے کے لیے گیا تھا۔‘‘ اس کے بعد ملزم ویڈیو میں اس بچے کی بری طرح پٹائی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔


بتایا جاتا ہے کہ ملزم شرنگی نندن یادو بھوپال کے کالج سے سول انجینئرنگ میں بی ٹیک ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولس نے ملزم کے خلاف مار پیٹ، ماحول خراب کرنے اور دیگر دفعات کے تحت معاملہ درج کر لیا۔ غازی آباد پولس نے گزشتہ دنوں اس سلسلے میں ٹوئٹ کر کے یہ بھی بتایا تھا کہ پٹائی کرنے والے شرنگی نندن یادو (والد کا نام اشونی کمار یادو)، باشندہ گوپال پور، تھانہ سنوارا، بھاگلپور، بہار کو حراست میں لیا گیا اور مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔