کسان پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں، ان کے پاس 6 ماہ کا راشن موجود: خصوصی رپورٹ

سنگھو بارڈر پرجو ہزاروں ٹرک کھڑے ہوئے ہیں اس میں سے ایک ٹرک جگپریت کا بھی ہے، ان کسانوں نے اپنے ان ٹرکوں کو عارضی کمروں میں تبدیل کر دیا ہے جس میں وہ رات گزارتے ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

ایشلن میتھیو

پنجاب کے کسان جگپریت کا کہنا ہے کہ وہ پوری تیاری سے آئے ہیں اور ان کے پاس 6 ماہ کا راشن موجود ہے۔ وہ موگا ضلع کے رہنے والے ہیں اور اپنے دو درجن کسان ساتھیوں کے ساتھ جب وہ مظاہرہ کے لئے 26 نومبر کو نکلے تھے تو اپنے ساتھ اناج، سبزی، لحاف اور گدے ایک ٹرک میں لے کر آئے تھے۔ سنگھو بارڈر پرجو ہزاروں ٹرک کھڑے ہوئے ہیں اس میں سے ایک ٹرک ان کا بھی ہے، ان کسانوں نے اپنے ان ٹرکوں کو عارضی کمروں میں تبدیل کر دیا ہے جس میں وہ رات گزارتے ہیں۔

کسان پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں، ان کے پاس 6 ماہ کا راشن  موجود: خصوصی رپورٹ
کسان پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں، ان کے پاس 6 ماہ کا راشن  موجود: خصوصی رپورٹ
کسان پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں، ان کے پاس 6 ماہ کا راشن  موجود: خصوصی رپورٹ
کسان پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں، ان کے پاس 6 ماہ کا راشن  موجود: خصوصی رپورٹ
کسان پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں، ان کے پاس 6 ماہ کا راشن  موجود: خصوصی رپورٹ
کسان پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں، ان کے پاس 6 ماہ کا راشن  موجود: خصوصی رپورٹ

57 سالہ جگپریت نے بتایا کہ جب وہ ہریانہ سے گزر رہے تھے تو وہاں کی حکومت ظالموں کی طرح پیش آ رہی تھی جبکہ عوام نے ان کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بقول ’’ہریانہ کے لوگوں نے ایک مہینے سے زیادہ کا راشن انہیں دیا جبکہ ابھی تک ہم نے ان کا دیا ہوا راشن چھوا تک نہیں ہے‘‘۔ لاکھوں کی تعداد میں کسان اپنے ٹرکوں اور ٹریکٹروں میں نئے زرعی قوانین کےخلاف احتجاج کرنے دہلی کے لئے اپنے گاؤں سے آئے ہیں لیکن ان کو مختلف سرحدوں پر روک دیا گیا۔ سنگھو بارڈر کا ہی دس کلومیٹر کا علاقہ 26 نومبر سے ہی پوری طرح بند کر دیا گیا ہے۔


واضح رہے ستمبر میں جب سے یہ نئے زرعی قوانین تشکیل دیئے گئے ہیں تب سے بڑی تعداد میں کسان ان قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کسانوں کا تعلق ہریانہ اور پنجاب کی 32 یونینوں سے ہے۔ یہ کسان چاہتے ہیں کہ حکومت نئے قوانین واپس لے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ نئے قوانین کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے والے ہیں اور اس سے غریب کسان کو کافی نقصان ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے جو ان کو پیداوار کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی ایک گارنٹی ملی ہوئی ہے وہ ختم ہو جائے گی۔

اس کے برعکس وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو فائدہ ہوگا، لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک جو ان کو ایم ایس پی کی گارنٹی تھی اس کو قانون میں شامل کیا جائے، جبکہ وزیر اعظم اور حکومت اس بات کو زبانی کہہ رہی کہ ایم ایس پی کی گارنٹی رہے گی۔ سنگھو بارڈر پر موجود کسان وزیر اعظم کے اس زبانی وعدے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔


مکتسرصاحب کے رنجودھ سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ قوانین مکیش امبانی اور گوتم اڈانی جیسے سرمایہ داروں کو فائدہ پہچانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور یہ کارپوریٹ گھرانے ان سے ان کی زمین لے لیں گے اور وہ پھر کسان سے غریب مزدور بن جائیں گے۔

ہریانہ کے مرتھل ضلع سے آئے رویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’سب یہ سمجھتے تھے کہ کانگریس حکومت بدعنوان ہے لیکن بی جے پی نے تو تمام حدیں پار کر دی ہیں۔‘‘ سنگھو بارڈر پر ہر عمر کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی نوجوان طالب علم سندیپ کور کا کہنا ہے ’’میں یہاں کچھ دن رہوں گی کیونکہ میری کلاسیں ہیں۔ میرے والدین میری فیس اسی لئے دے پائے ہیں کیونکہ ہمارے پاس زمین تھی اور یہ ہم سے ہماری زمین چھیننا چاہتے ہیں۔ یہ قوانین کسان مخالف ہیں اس لئے طالب علم ہونے کے ناطے مجھے ان قوانین کے خلاف آواز اٹھانی ہے اور ہم یہ آواز اس وقت تک اٹھاتے رہیں گے جب تک وہ ہماری آواز نہ سن لیں‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 02 Dec 2020, 12:40 PM