’جاتے جاتے گیانیش کمار بی جے پی کی جھولی میں اتر پردیش کی عوام کا مینڈیٹ چرا کر ڈال دینا چاہتے ہیں‘
کانگریس نے ’دی رپورٹرس کلیکٹیو‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوپی میں ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام ہٹائے گئے، مشتبہ طریقے سے نئے ووٹر جوڑے گئے اور پورے عمل میں اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوئی۔

اتر پردیش میں ایس آئی آر کا عمل شبہات کے دائرے میں آ گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہوئی ہیں، اور اب ’دی رپورٹرس کلیکٹیو‘ کی ایک رپورٹ نے نیا ہنگامہ شروع کر دیا ہے۔ کانگریس نے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے گیانیش کمار پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جاتے جاتے اتر پردیش کی عوام کا مینڈیٹ چرا کر بی جے پی کی جھولی میں ڈالنا چاہتے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس بارے میں ایک تفصیلی پوسٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کی ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ووٹ چور اب اتر پردیش میں ایس آئی آر کے ذریعہ ووٹ ڈکیتی کر رہا ہے۔ مودی-شاہ کی سازشی جوڑی اتر پردیش میں اپنی یقینی شکست کے خوف سے ووٹ چوری کا اپنا آخری اسلحہ آزما رہی ہے۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’دی رپورٹرس کلیکٹیو کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کیے گئے، مشتبہ طریقے سے نئے ووٹر جوڑے گئے اور پورے عمل میں اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہوئی۔‘‘
جئے رام رمیش نے اتر پردیش میں ایس آئی آر کے ذریعہ کیے جا رہے کھیل کے 3 طریقے بتائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’سب سے پہلے بڑی تعداد میں نام حذف کیے گئے۔ اتر پردیش میں ایس آئی آر کے دوران 2.96 کروڑ ووٹر ہٹائے گئے۔ جن ریاستوں میں اب تک ایس آئی آر ہو چکا ہے، ان میں یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔‘‘ دوسرے طریقہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’دوسرا عمل ہے پراسرار ووٹر کو جوڑنا۔ تقریباً 16 لاکھ ووٹرس فارم-6 کے ذریعہ جوڑے گئے، لیکن قانون کے مطابق جن ووٹرس کو جوڑا جا رہا ہے، ان کی جانکاری ظاہر ہونی چاہیے تھی۔ ان 16 لاکھ ووٹرس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں اور اب بھی اتر پردیش سی ای او (چیف الیکٹورل افسر) نے ان کی جانکاری دینے سے انکار کیا ہے۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں کہ ’’اس معاملے میں اتر پردیش سی ای او اور ای سی آئی ایک دوسرے کے کندھوں پر بات ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ادارے یہ واضح کر دیں کہ یہ خصوصی گزارش کہاں سے آئی تھی اور کس کے کہنے پر یہ سب ہوا؟‘‘
کانگریس جنرل سکریٹری ایس آئی آر میں بے ضابطگی کا تیسرا طریقہ ’پراسرار ڈیلیشن‘، یعنی ووٹروں کے نام پراسرار انداز میں حذف کیے جانے کو بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایس آئی آر سماعت کے بعد ای آر او نیٹ سافٹ ویئر سے 85854 پہلے سے بھرے ہوئے فارم-7 جنریٹ کیے گئے، تاکہ ووٹرس کے نام ہٹائے جا سکیں۔ یہ فارم-7 ای آر اوز (الیکٹورل رجسٹریشن افسر) کے نام اور ان کے دستخط کے ساتھ جنریٹ ہوئے، جس کے بعد ان کے پاس ان ناموں کو ہٹانے کے علاوہ تقریباً کوئی متبادل نہیں بچا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ان ڈیلیشن کی کوئی واضح وجہ بھی نہیں دی گئی۔ یہ عمل اصولوں کے بھی خلاف تھا، کیونکہ ای آر او ایک ہی وقت پر اعتراض درج کرنے والا اور اسی اعتراض پر فیصلہ کرنے والا کیسے ہو سکتا ہے؟ اصولوں کے مطابق اعتراضات اور درخواستوں کا وقت ختم ہونے کے بعد فارم-7 میں اعتراض درج نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
مذکورہ بالا حقائق کو پیش کرنے کے بعد جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ گھپلا تینوں سطح پر ہوا، یعنی 2.96 کروڑ ناموں کو بڑے پیمانے پر ہٹایا گیا، 16 لاکھ ووٹرس مشتبہ طریقے سے جوڑے گئے اور 85854 نام ووٹر لسٹ سے پُراسرار انداز میں ہٹائے گئے۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں کانگریس جنرل سکریٹری نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’راہل گاندھی اور پورا اپوزیشن مودی-شاہ اسپانسرڈ ووٹ چوری کے خلاف سڑکوں پر ہے اور یہ لڑائی اب اپنے نتیجہ خیز دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’جاتے جاتے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار بی جے پی کی جھولی میں اتر پردیش کی عوام کا مینڈیٹ چرا کر کے ڈال دینا چاہتے ہیں، لیکن اب یہ کھیل ختم ہو چکا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
