بہار پولیس میں پہلے خواجہ سرا کانسٹیبل کی تقرری

ماضی میں رچنا کے نام سے پکارے جانے والے رچیت راج (23) نے تقرری کے بعد کہا کہ وہ ایک لڑکی کے طور پر پیدا ہوئے تھے لیکن ان کا دل کبھی عورتوں کے کپڑے پہننے یا لڑکی جیسا بننے پر راضی نہیں ہوا۔

بہار پولیس / آئی اے این ایس
بہار پولیس / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: بہار پولیس نے پہلی بار ایک خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر شخص) کو کانسٹیبل کے طور پر مقرر کیا ہے۔ جس کے بعد رچیت راج کیمور ضلع کے ایس پی آفس کی خفیہ شاخ میں تعینات ہونے والے پہلے خواجہ سرا کانسٹیبل بن گئے ہیں۔ ماضی میں رچنا کے نام سے پکارے جانے والے رچیت راج (23) نے تقرری کے بعد کہا کہ وہ ایک لڑکی کے طور پر پیدا ہوئے تھے لیکن ان کا دل کبھی عورتوں کے کپڑے پہننے یا لڑکی جیسا بننے پر راضی نہیں ہوا۔

راج نے کہا کہ جب میں 17 سال کا تھا تو میں لڑکوں کی بجائے لڑکیوں کی طرف راغب تھا۔ ایک خواجہ سرا کی شناخت قائم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ جب میں بازار گیا تو لوگوں نے تبصرہ کیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ ایک لڑکی لڑکے کی طرح چل رہی ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ تمام سماجی رکاوٹوں کے باوجود میں نے عدالت میں ایک حلف نامہ پیش کیا تھا تاکہ ایک خواجہ سرا کے طور پر شناخت حاصل کر سکوں۔ میری جسمانی شناخت کو عورت سے مرد میں تبدیل کرنا انتہائی مشکل تھا۔ میں نے بطور مرد کانسٹیبل کے عہدے کے لیے درخواست دی تھی اور اس سال منتخب ہوا۔ ٹریننگ کے بعد مجھے کیمور میں ایس پی آفس میں خفیہ شاخ میں تعینات کیا گیا ہے۔ اب مجھے اپنے ساتھیوں سے عزت مل رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔