قومی

ممتا بنرجی راہل گاندھی کو پی ایم بنانے پر رَضامند، مودی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ضروری!

ترنمول کانگریس ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی کے لیے زیادہ اہم یہ ہے کہ نریندر مودی کو دوبارہ برسراقتدار نہ ہونے دیا جائے، اور اگر اس کے لیے راہل گاندھی کو پی ایم بنانا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ایک طرف لوک سبھا انتخاب اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے اور دوسری طرف مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی کارکنان کے درمیان جس طرح تشدد برپا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بی جے پی صدر امت شاہ اور یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت بی جے پی کے سرکردہ لیڈران ممتا بنرجی کے خلاف خوب بیان بازیاں کر رہے ہیں اور ممتا بنرجی بھی پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑ رہیں۔ انھوں نے تو نریندر مودی کو ’ایکسپائری پی ایم‘ تک کہہ ڈالا ہے۔

ان ہنگاموں کے درمیان ترنمول کانگریس ذرائع سے ایک بہت بڑی خبر نکل کر سامنے آ رہی ہے۔ راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنائے جانے سے متعلق ترنمول کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کو مرکز سے باہر کرنے کے لیے ممتا بنرجی کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ یہ خبر ہندی نیوز پورٹل ’این ڈی ٹی وی‘ نے شائع کی ہے۔ اس خبر کے مطابق ممتا بنرجی اگلے وزیر اعظم کے لیے راہل گاندھی کے نام پر تیار ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ نریندر مودی کسی بھی قیمت پر واپس نہیں آنا چاہیے۔

دراصل 23 مئی کو عام انتخاب کے نتائج آنے ہیں اور سیاسی گلیاروں میں نئے وزیر اعظم کو لے کر اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ ایک طرف تو نریندر مودی کا نام ہے، لیکن دوسری طرف اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے کسی نام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی کے نام پر مختلف اپوزیشن پارٹیاں اکثر تبصرہ کرتی رہی ہیں اور کئی پارٹیوں کے سربراہان نے ان کے نام پر حامی بھی بھر رکھی ہے لیکن خود راہل گاندھی نے اس تعلق سے کچھ نہیں کہا ہے۔ اب جب کہ ترنمول کانگریس کے ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ ممتا بنرجی پی ایم مودی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے راہل گاندھی کو پی ایم بنانے پر رضامند ہیں، تو یہ اپوزیشن پارٹیوں کے لیے کسی خوشخبری سے کم نہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ ممتا بنرجی نے ابھی تک کانگریس کے ساتھ اتحاد کا کوئی اعلان نہیں کیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ زمینی رپورٹ میں کانگریس کی بہتر کارکردگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے ممتا بنرجی کا رجحان کانگریس کی طرف بڑھا ہے۔

ویسے بھی ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے کئی بار راہل گاندھی کو پی ایم بنانے کی بات کہی ہے اور منگل کو بھی انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ’این ڈی ٹی وی‘ نے ترنمول کانگریس کے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’اگر اسٹالن راہل کو پی ایم بنانے کے لیے کہتے ہیں تو یہ مسئلہ نہیں ہے کیونکہ سبھی مودی کو باہر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے. چندر شیکھر راؤ کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے ترنمول کانگریس کے ذرائع نے کہا کہ ’’ریاستوں کی پارٹیاں مودی کو باہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جس میں ممتا بنرجی ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے ممتا بنرجی سے گزشتہ سال کے آخر میں ملاقات کی تھی اور ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ چندرشیکھر راؤ آگے کی بات کے لیے دوبارہ مغربی بنگال آئیں گے۔ تازہ ترین سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو چندر شیکھر راؤ نے کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین، ایم کے اسٹالن اور جگن موہن ریڈی کے ساتھ ساتھ ایچ ڈی کماراسوامی سے بھی ملاقات کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس کے مقابلے میں بی جے پی سے راؤ کو زیادہ پریشانی ہے کیونکہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد ان کو کئی جنوبی ریاستوں میں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ ان ریاستوں میں لوگ بی جے پی سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ یہی بات جگن موہن ریڈی پر بھی نافذ ہوتی ہے جو آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو کے ہاتھ سے اقتدار واپس لینا چاہتے ہیں۔

اس طرح دیکھا جائے تو سیاسی این ڈی اے میں شامل پارٹیوں کے علاوہ جتنی بھی پارٹیاں ہیں وہ مودی کو اقتدار سے باہر رکھنے کی کوششوں میں ہی مصروف ہیں اور اس درمیان ابھی تک کسی بھی پارٹی نے راہل گاندھی کے علاوہ کسی دیگر لیڈر کا نام بطور پی ایم نہیں لیا ہے۔ اگر ممتا بنرجی نے پی ایم کے لیے راہل گاندھی کے نام پر رضامندی ظاہر کر دی تو پھر کئی دوسری علاقائی پارٹیاں بھی کانگریس کے ساتھ کھڑی نظر آ جائیں گی۔

Published: 15 May 2019, 9:10 PM