گجرات پنچایت انتخابات: خوف میں نامزدگی واپس لے رہے بی جے پی مخالف امیدوار!

پالیتانا میں نامزدگی سے ٹھیک پہلے ممکنہ امیدواروں کے کاغذات پھاڑ دیے گئے۔ نگر پالیکا کے ریٹرننگ افسر کے احاطہ میں گھس کر کچھ غنڈوں نے ہنگامہ کیا اور بھاؤ نگر ضلع کانگریس صدر کی پٹائی کر دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نچیکیتا دیسائی

برسراقتدار بی جے پی گجرات میں نگرپالیکا اور پنچایت انتخابات میں بغیر ووٹنگ کے ہی اپنے زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو فتحیاب کرانے کے خیال سے کانگریس اور دیگر اپوزیشن امیدواروں کو اپنی نامزدگی واپس لینے کے لیے ڈرانے دھمکانے کے لیے غنڈوں کا استعمال کر رہی ہے۔ چھ نگر پالیکاؤں، 31 ضلع پنچایتوں اور 230 تعلقہ پنچایتوں کے لیے یہاں 21 اور 28 فروری کو انتخابات ہوں گے۔

پالیتانا میں 13 فروری کو نامزدگی داخل کرنے سے ٹھیک پہلے جس طرح ممکنہ امیدواروں کے کاغذات چھین کر پھاڑ دیے گئے، نگرپالیکا کے ریٹرننگ افسر کے احاطہ میں گھس کر کچھ غنڈوں ہنگامہ مچایا اور بھاؤ نگر ضلع کانگریس صدر کی پٹائی کی گئی، اس سے تو مجموعی طور پر یہی لگتا ہے کہ ایک خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس واقعہ پر نوٹس لیتے ہوئے گجرات ہائی کورٹ نے تبصرہ بھی کیا۔ عدالت نے کہا کہ انتخابی عمل کا ماحول پراگندہ کر دیا گیا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے اسے ’منظم حملہ‘ بتایا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد ہی ریاستی انتخابی کمیشن نے 36 کانگریس امیدواروں کی نامزدگی کے کاغذات کے ساتھ پارٹی اجازت نامہ کے داخلے کی اجازت دی۔

گیر سومناتھ ضلع میں اوما نگر پالیکا اور مہسانا ضلع میں کڑی نگر پالیکا میں کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن امیدواروں نے کئی سیٹوں سے اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ اس کے بعد بی جے پی نے اپنے بیشتر امیدواروں کی بغیر الیکشن ہی جیت کا دعویٰ کیا۔ مبینہ طور پر مقامی غنڈوں کے دھمکانے کے بعد اونا میں تعلقہ کانگریس صدر گنونت تلاویا سمیت 19 کانگریس اور 13 دیگر امیدواروں نے نگرپالیکا الیکشن سے اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ دھیان رہے کہ اونا وہی جگہ ہے جہاں 2016 میں مبینہ گئو رکشکوں نے سات دلت نوجوانوں کو ننگا کر کار سے باندھ کر پیٹا تھا۔ اس واقعہ پر ملک بھر میں سیاسی ہنگامہ برپا ہوا تھا۔

کڑی نگرپالیکا میں بھی کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے امیدواروں نے اپنی نامزدگی واپس لے لی جس کے بعد اکثریت والی سیٹوں پر بی جے پی کو جیت مل گئی۔ ریاستی بی جے پی صدر سی آر پاٹل نے کہا بھی کہ بی جے پی نے ضلع پنچایتوں میں 24، تعلقہ پنچایتوں میں 110 اور نگرپالیکاؤں میں 85 سیٹوں پر بغیر ووٹنگ کے ہی جیت درج کی ہے۔ ویسے خود پاٹل کی زندگی کئی نشیب و فراز کی گواہ بنی ہے۔ وہ پولس میں سپاہی تھے۔ گجرات میں شراب پر پابندی نافذ ہونے کے بعد مہاراشٹر سے شراب کی اسمگلنگ کرنے والوں سے سانٹھ گانٹھ کرنے کے الزام میں انھیں معطل کر دیا گیا تھا۔ بعد میں انھوں نے بی جے پی کی رکنیت اختیار کر لی۔

پاٹل کا ماننا ہے کہ ان انتخابات میں ان کی پارٹی کو جیت بھی 15 لاکھ پنّا کمیٹیوں کی وجہ سے مل رہی ہے۔ ان میں 50 ہزار سے زائد ایسے کارکنان ہیں جو ادائیگی والے ٹھیکے پر ہیں۔ ان پر انتخابی تشہیر کے دوران اور ووٹنگ کے دن گھر گھر جا کر ووٹروں سے رابطہ کرنے کا ذمہ ہے۔ ووٹر لسٹ کے ایک صفحہ میں 50 نام ہوتے ہیں۔ بی جے پی ان پنّا چیف کو شناختی کارڈ دیتی ہے جسے وہ اپنی گاڑیوں پر بھی لگاتے ہیں۔

اسی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ پولس و انتظامیہ سے لے کر عام لوگوں تک پر ان کے اس رتبے کا کیا اثر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ وجے روپانی اور ان کے وزیر بھی اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں پنّا چیف ہیں۔ روپانی کہتے بھی ہیں کہ وہ پارٹی کارکنان پہلے ہیں، وزیر اعلیٰ بعد میں، اور پارٹی کے ضابطے سبھی کارکنان کے لیے یکساں ہیں۔ پنّا کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کمیٹیوں کے چیف کو پنّا چیف بنانے کا خیال پاٹل کا ہی تھا۔

خیر، اب تو بی جے پی نے تقریباً پورے ملک میں ہی اس سوچ کو کسی نہ کسی طرح نافذ کر دیا ہے یا کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 20 Feb 2021, 11:10 PM
پسندیدہ ترین
next