اترپردیش: 42 سالہ کسان کی لاش درخت سے لٹکی ملی، پولیس کی تفتیش جاری

سورج رائے نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پرمود رانا کے نام سے شناخت کیے گئے کسان نے خودکشی کرلی، جبکہ اس کے نوکر کو قتل کیا گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ رانا نے اپنے نوکر کو قتل کیا تھا یا نہیں۔

خودکشی، علامتی تصویر آئی اے این ایس
خودکشی، علامتی تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے سہارنپور ضلع کے سونا ارجن پور گاؤں میں ایک 42 سالہ کسان کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ اسی دوران اس کے 35 سالہ نوکر کی مسخ شدہ لاش قریب ہی سے ایک بوری میں بھری ہوئی ملی۔ دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے۔ نوکر کی لاش مبینہ طور پر گل سڑ چکی ہے۔

سہارنپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (دیہی) سورج رائے نے اتوار کو کہا کہ پہلی نظر سے ایسا لگتا ہے کہ کسان، جس کی شناخت پرمود رانا کے طور پر ہوئی ہے، نے خودکشی کی ہے، جب کہ اس کے نوکر کو قتل کیا گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ رانا نے اپنے نوکر کو قتل کیا تھا یا نہیں۔ پروین 19 اپریل سے لاپتہ تھا۔ اس کے لواحقین نے گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔ فرانسک ٹیم معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، ساتھ ہی متوفی کی کال ڈیٹیلز کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔


متاثرہ خاندان نے بتایا کہ رانا جمعہ کی شام فصل کو پانی دینے کے بہانے گھر سے نکلا تھا لیکن واپس نہیں آیا۔ ایک دن بعد، مبینہ طور پر اس کی لاش آم کے درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ رانا کے پسماندگان میں بیوی اور دو بیٹیاں ہیں۔ اس کے بڑے بھائی کی بیوی اور اس کی 20 سالہ بیٹی بھی اسی گھر میں رہتی ہیں۔ پولیس نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ممکنہ محبت کے زاویے کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔