انل دیشمکھ نے لی راحت کی سانس، سپریم کورٹ نے ضمانت کے خلاف داخل سی بی آئی کی عرضی کو کیا خارج

عدالت نے انل دیشمکھ کو 100 کروڑ روپے کی مبینہ وصولی معاملے میں ہائی کورٹ سے ملی ضمانت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>انل دیشمکھ، فائل تصویرآئی اے این ایس</p></div>

انل دیشمکھ، فائل تصویرآئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے ذریعہ درج معاملے میں مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کو ضمانت دینے کے بامبے ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے انل دیشمکھ کو 100 کروڑ روپے کی مبینہ وصولی معاملے میں ہائی کورٹ سے ملی ضمانت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمانت کے خلاف سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، لیکن اب اسے خارج کر دیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے ذریعہ ضمانت دیئے جانے کے بعد انل دیشمکھ جیل سے باہر آ چکے ہیں۔ حالانکہ سی بی آئی بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے خوش نہیں تھی اس لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ سی بی آئی نے گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ میں انل دیشمکھ کو بامبے ہائی کورٹ سے ملی ضمانت کو چیلنج پیش کیا تھا۔ بامبے ہائی کورٹ نے 12 دسمبر کو انل دیشمکھ کو ایک لاکھ نجی مچلکے پر ضمانت دی تھی۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو ضمانت کے حکم کے خلاف اپیل داخل کرنے کے لیے 10 دن کا وقت بھی دیا تھا۔


دراصل نومبر 2022 میں ممبئی کی خصوصی عدالت نے انل دیشمکھ کی ضمانت کو خارج کر دیا تھا۔ بعد ازاں انل دیشمکھ نے ذیلی عدالت کے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ یہاں سے انھیں ضمانت مل گئی۔ پھر سی بی آئی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔