مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان دے کر برے پھنسے ٹی راجہ سنگھ، بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی پر ایف آئی آر درج

تھانہ انچارج انسپکٹر ہرش وردھن گولی نے اس سلسلے میں بتایا کہ ٹی راجہ سنگھ پر تعزیرات ہند کی دفعات 295، 504 اور 506 لگائی گئی ہیں۔

ٹی راجہ سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
ٹی راجہ سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

تلنگانہ بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کے ایک نفرت انگیز بیان نے ان کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ان کے بیان پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی تھی اور اب احمد نگر ضلع پولیس نے ان کے خلاف معاملہ درج کر لیا ہے۔ انھوں نے اپنی اس تقریر میں مسلمانوں سے متعلق متنازعہ بیان دیا تھا جس پر بہت ہنگامہ ہوا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شری رامپور پولیس اسٹیشن کے افسران نے کہا کہ ٹی راجہ سنگھ کو 10 مارچ کو شیو جینتی چھترپتی شیواجی مہاراج کی جینتی کی شکل میں منائے جانے والے ایک پروگرام میں مدعو کیا گیا تھا۔ یہاں انھوں نے اپنی تقریر کے دوران مسلم طبقہ کے تئیں قابل اعتراض تبصرہ کر دیا۔ پیر کے روز مسلم طبقہ کے کچھ مقامی افراد نے پولیس میں اس کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اسی بنیاد پر ٹی راجہ سنگھ کے خلاف معاملہ درج ہوا ہے۔


تھانہ انچارج انسپکٹر ہرش وردھن گولی نے اس سلسلے میں بتایا کہ ٹی راجہ سنگھ پر تعزیرات ہند کی دفعات 295، 504 اور 506 لگائی گئی ہیں۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 295 کسی بھی طبقہ کے مذہب کی بے عزتی کرنے کے ارادے سے پوجا کے مقام کو نقصان پہنچانے یا ناپاک کرنے سے متعلق ہے، جبکہ 504 اور 506 قصداً بے عزتی اور مجرمانہ دھمکی سے متعلق ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل فروری میں بھی ٹی راجہ سنگھ کے خلاف مہاراشٹر کے لاتور ضلع میں شیو جینتی پروگرام کے دوران مبینہ طور سے نفرت بھری تقریر کے لیے ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اگست 2022 میں ٹی راجہ سنگھ کو تلنگانہ پولیس نے اسلام اور پیغمبر محمدؐ کے خلاف ان کے تبصرہ کے لیے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ہی بی جے پی نے ان کے تبصرہ سے خود کو دور کر لیا اور انھیں پارٹی سے معطل کر دیا تھا۔ بہرحال، انھوں نے اپنی تازہ تقریر کے بعد ایک ٹوئٹ بھی کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’کچھ لوگوں کو وہم تھا رام مندر نہیں بنے گا۔ دوسرا وہم تھا 370 نہیں ہٹے گی۔ اب وہم ہے ہندوستان ہندو راشٹر نہیں بنے گا۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */