عامر کی لاش فوری طور پر لواحقین کے سپرد کی جائے: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ معصوم شہریوں کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ اُن کے لخت جگروں کو شیلڈ کے بطور استعمال کیا گیا لہذا اس کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہئے

محبوبہ مفتی، تصویر آئی اے این ایس
محبوبہ مفتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ نے ایک دفعہ پھر حیدر پورہ میں ہوئے مبینہ تصادم پر جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عامر کی لاش فوری طور پر لواحقین کے سپرد کر کے انکاونٹر کی جوڈیشل تحقیقات کے احکامات صادر کئے جائیں۔ ان باتوں کا اظہار موصوفہ نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’چونکہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا یونیفائیڈ ہیڈ کواٹر کے سربراہ ہیں لہذا اُنہیں کشمیری عوام خاص کر لواحقین سے معذرت طلب کرنی چاہئے‘۔ انہوں نے کہا کہ حیدر پورہ تصادم میں مارے گئے تین نوجوانوں پر جو بالائی ورکر، ہابئیرڈ ملی ٹینٹ ہونے کا الزام لگایا گیا اُس سے فوری طورپر واپس لیا جائے تاکہ لواحقین راحت کی سانس لے سکیں۔


محبوبہ مفتی نے کہا کہ رام بن سے تعلق رکھنے والے عامر کی لاش ابھی بھی لواحقین کے سپرد نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے ایل جی سے مطالبہ کیا ہے کہ عامر کی لاش کو فوری طور پر والدین کے سپرد کرکے معصومین کے لواحقین کے حق میں ایکس گریشا واگزار کیا جائے۔ پی ڈی پی صدر کا مزید کہنا تھا کہ یہاں پر اب پُرامن طورپر احتجاج کرنے کی بھی انتظامیہ اجازت نہیں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جموں وکشمیر میں جمہوریت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے اور ہم سے احتجاج کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے‘۔

محبوبہ مفتی سے جب سوال کیا گیا کہ ایل جی نے حیدر پورہ تصادم کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادر کئے تو انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ جوڈیشل تحقیقات کے ذریعے ہی ملوث اہلکاروں کو سزا مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدر پورہ انکاونٹر کے بعد پولیس نے بتایا وہاں پر تین لوگ مارے گئے پھر اگلی صبح پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔


محبوبہ مفتی نے سوال کیا کہ بقول پولیس کے حیدر پورہ تصادم میں ایک عدم شناخت ملی ٹینٹ بھی مارا گیا، تو اُس کی لاش کس نے دیکھی؟۔ انہوں نے کہا کہ ’واقعی میں حیدر پورہ تصادم کے دوران ملی ٹینٹ مارا گیا ہے یا پھرخواہ مخواہ تین شہریوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا‘؟ محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ معصوم شہریوں کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ اُن کے لخت جگروں کو شیلڈ کے بطور استعمال کیا گیا لہذا اس کی جوڈیشل تحقیقات ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی غیر قانونی اور غیر آئینی فیصلہ تھا جس کی آج بھی مخالفت ہو رہی ہیں۔

پریس کالونی میں معروف اخبارات کے دفاتر کو خالی کرانے کے بارے میں پوچھے گئے اور ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’جو گودی میڈیا کی طرح کام کریں گا اُس سے لکھنے کی مکمل آزادی ہے لیکن جو صحافت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی سعی کرتا ہے اُس سے ہراساں کیا جا رہا ہے‘۔ اس سے قبل پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پارٹی کارکنوں کے ہمراہ اپنی رہائش گاہ سے ایک جلوس نکالا جس میں لواحقین کو انصاف دو، حیدر پورہ انکاونٹر کا جواب دو کے فلک شگاف نعرے بلند کئے گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔