بڑھتی مہنگائی کے درمیان 48 فیصد گھروں میں انڈے کی خریداری گھٹ گئی، ایک سروے میں انکشاف
سروے میں 287 اضلاع کے خاندانوں سے 67 ہزار سے زیادہ جوابات لیے گئے۔ ان میں 62 فیصد لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ میں انڈوں کی قیمت 10 سے 50 فیصد یا اس سے زیادہ بڑھی ہے۔

انڈا ہندوستانی خاندانوں کے لیے پروٹین کا آسان اور سستا ذریعہ مانا جاتا ہے، لیکن اب اس کی قیمت بڑھنے سے گھر کا بجٹ بگڑ رہا ہے۔ مہنگے انڈوں کا اثر براہ راست لوگوں کی پلیٹ پر نظر آنے لگا ہے۔ کئی گھروں میں اب کم انڈے خریدے جا رہے ہیں، جبکہ کچھ خاندان پروٹین کے لیے سستے متبادل کی تلاش کر رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف ’لوکل سرکلز‘ کے ایک سروے میں ہوا ہے۔
سروے میں 287 اضلاع کے خاندانوں سے 67 ہزار سے زیادہ جوابات لیے گئے۔ ان میں 62 فیصد لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ 6 ماہ میں انڈوں کی قیمت 10 سے 50 فیصد یا اس سے زیادہ بڑھی ہے۔ سروے کے مطابق تقریباً 48 فیصد لوگوں نے کہا کہ انہوں نے انڈوں کی مقدار یا خریدنے کی فریکوئنسی کم کر دی ہے۔ وہیں 10 فیصد لوگ سستے متبادل یا دوسری جگہ سے انڈے خریدنے لگے ہیں۔ سروے میں یہ بات ابھر کر سامنے آئی ہے کہ انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ کا اثر بڑے پیمانے پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس سروے میں 21,469 لوگوں سے قیمت بڑھنے کے حوالے سے سوال کیا گیا۔ ان میں 31 فیصد نے کہا کہ انڈے 10 سے 25 فیصد مہنگے ہوئے ہیں۔ اتنے ہی لوگوں نے 25 سے 50 فیصد کے اضافے کی بات کہی۔ 22 فیصد لوگوں نے 10 فیصد تک قیمت بڑھنے کی بات کہی۔ اس طرح 84 فیصد لوگوں نے انڈوں کی قیمت بڑھنے کی اطلاع دی۔ کسی بھی جواب دینے والے نے یہ نہیں کہا کہ قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
سروے رپورٹ کے مطابق فارم سے نکلنے والے انڈے کی قیمت تقریباً 7 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ایک سال پہلے یہ تقریباً 4.94 روپے تھی۔ کئی بازاروں میں خوردہ قیمت 8.50 سے 9 روپے فی انڈا ہے۔ کچھ آن لائن پلیٹ فارم پر قیمت تقریباً 14 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انڈے مہنگے ہونے کی ایک بڑی وجہ مرغیوں کا چارہ بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انڈا پیداوار کی مجموعی لاگت میں تقریباً 65 سے 70 فیصد حصہ چارے کا ہوتا ہے۔ پولٹری فیڈ میں مکئی بڑی مقدار میں استعمال ہوتی ہے۔ مکئی کی قیمت گزشتہ کچھ سالوں میں کافی بڑھی ہے۔ 3 سال پہلے مکئی تقریباً 14 ہزار روپے فی ٹن تھی۔ اب اس کی قیمت تقریباً 26,500 روپے فی ٹن ہو گئی ہے۔ سویابین میل کی قیمت بھی تقریباً 40 ہزار سے بڑھ کر 65 ہزار روپے فی ٹن ہو گئی ہے۔ ڈی آئلڈ رائس بران کی قیمت تقریباً 12 ہزار سے بڑھ کر 22 ہزار روپے فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ جولائی 2026 میں پولٹری فیڈ کی لاگت ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد زیادہ رہی۔
رپورٹ میں مکئی کے بڑھتے استعمال کو بھی انڈوں کی قیمت سے جوڑا گیا ہے۔ ملک میں مکئی کا استعمال ایتھنول بنانے کے لیے تیزی سے بڑھا ہے۔ 23-2022 میں ڈسٹلری کو تقریباً 8.3 لاکھ ٹن مکئی دی گئی تھی۔ 25-2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 125.75 لاکھ ٹن ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق اب ملک میں پیدا ہونے والی مکئی کا تقریباً 37 فیصد حصہ ایتھنول کی پیداوار میں جا رہا ہے۔ اس سے خوراک، جانوروں کے چارے اور ایندھن کے لیے ایک ہی فصل کی مانگ بڑھ گئی ہے۔
انڈوں کی سپلائی پر گرمی کا اثر بھی خوب پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ساحلی آندھرا پردیش کے پولٹری شعبے میں گرمی کی وجہ سے 16.35 لاکھ سے زیادہ پرندوں کی موت ہوئی۔ اس سے روزانہ انڈے دینے کی صلاحیت تقریباً 30 فیصد تک کم ہو گئی۔ سردیوں میں انڈوں کی طلب عام طور پر بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں قیمتوں پر دباؤ آگے بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ اڈیشہ میں اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں بھی اس کا اثر بتایا گیا ہے۔ وہاں ایک انڈے کے لیے 9 سے 10 روپے تک خرچ ہو رہے ہیں۔ جبکہ حکومت کی مقرر کردہ قیمت 7 روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چینی کے بعد ایتھنول کے سبب انڈے کی قیمت میں بھی اضافہ!
مہنگے انڈوں کا براہ راست اثر خاندانوں کی خریداری پر پڑا ہے۔ 19,638 لوگوں کے جوابات میں 48 فیصد نے کہا کہ انہوں نے انڈوں کی مقدار یا خریدنے کی فریکوئنسی کم کر دی ہے۔ 10 فیصد لوگ سستے متبادل یا دوسرے ذرائع کی طرف گئے ہیں۔ 37 فیصد لوگوں نے کہا کہ قیمت بڑھنے کے باوجود وہ پہلے جتنے ہی انڈے خرید رہے ہیں۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ انہوں نے مکمل طور پر انڈے خریدنا بند کر دیا ہے۔
قیمت بڑھنے کے ساتھ انڈوں کے معیار کو لے کر بھی تشویش سامنے آئی ہے۔ سروے میں 70 فیصد لوگوں نے انڈوں میں ملاوٹ کو لے کر بہت زیادہ تشویش ظاہر کی۔ 20 فیصد لوگوں نے کسی حد تک تشویش ظاہر کی۔ یعنی 90 فیصد لوگوں کو کسی نہ کسی سطح پر انڈوں کی حفاظت کی تشویش ہے۔
رپورٹ میں اینٹی بایوٹک باقیات کو لے کر ہونے والی جانچ کا بھی ذکر ہے۔ اس کے بعد ایف ایس ایس اے آئی نے ملک بھر میں نگرانی اور جانچ مہم چلانے کی ہدایت دی تھی۔ ایف ایس ایس اے آئی نے بعد میں کہا کہ انڈے کھانے کے لیے محفوظ ہیں۔ انڈوں کو کینسر سے جوڑنے والے دعوے سائنسی بنیاد پر درست نہیں ہیں۔ ہندوستان میں بڑی تعداد میں انڈے کھلے اور بغیر برانڈ کے فروخت ہوتے ہیں۔ ایسے انڈوں پر پیداوار کی تاریخ، فارم اور ذریعہ جیسی معلومات نہیں ہوتیں۔ اس سے صارفین کے لیے انڈے کے معیار اور ذرائع کی معلومات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ رپورٹ میں حکومت سے پولٹری کاروبار کے لیے مکئی کی دستیابی بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایتھنول کے لیے مکئی کے استعمال کا جائزہ لینے اور ضرورت پڑنے پر مکئی کی درآمد آسان کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
