چینی کے بعد ایتھنول کے سبب انڈے کی قیمت میں بھی اضافہ!

ہندوستان میں پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ بڑھانے کی پالیسی کے تحت ایتھنول کی پیداوار میں مکئی سمیت دیگر اناج کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

روزمرہ کے کھانے پینے کی اشیا پر مہنگائی کا اثر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ چینی اور دیگر غذائی اشیا کے بعد اب انڈوں کی قیمت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں انڈوں کی قیمت تقریباً 40 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ میں قیمتوں کا یہ اضافہ زیادہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ’نیشنل ایگ کوآرڈینیشن کمیٹی‘ کے مطابق پولٹری فارم سے نکلنے والے ایک انڈے کی قیمت تقریباً 7 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کئی خوردہ بازاروں میں یہ 8.50 سے 9 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ اس تیزی کی ایک بڑی وجہ پولٹری فیڈ کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ مرغیوں کے چارے میں مکئی اہم خام مال میں شامل ہے اور اسی مکئی کی طلب ایتھنول بنانے کے لیے بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے فیڈ کی لاگت پر دباؤ بڑھا ہے، جس کا اثر انڈوں کی قیمت پر دکھائی دے رہا ہے۔

ہندوستان میں پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ بڑھانے کی پالیسی کے تحت ایتھنول کی پیداوار میں مکئی سمیت دیگر اناج کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ حکومت نے بھی ایتھنول کی پیداوار کے لیے مکئی کی دستیابی بڑھانے اور ایتھنول پلانٹ کے آس پاس مکئی کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اقتصادی سروے 26-2025 میں ایتھنول کی پیداوار کے لیے تقریباً 125.78 لاکھ ٹن مکئی استعمال ہونے کا اندازہ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایتھنول سیکٹر میں مکئی کی طلب کس تیزی سے بڑھی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار میں مکئی ایتھنول کی پیداوار کا سب سے بڑا خام مال بھی بن کر سامنے آئی ہے۔


اقتصادی سروے 26-2025 نے بھی اس تبدیلی کو اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایتھنول کے لیے مکئی کی طلب بڑھنے کے ساتھ اس کی قیمتوں اور کاشت سے متعلق فیصلوں پر اثر پڑا ہے۔ مالی سال 22 سے مالی سال 25 کے درمیان مکئی سے تیار ہونے والے ایتھنول کی انتظامی قیمت میں سالانہ اوسطاً 11.7 فیصد کا اضافہ ہوا، جس سے کسانوں کے لیے مکئی کی کاشت کی کشش بڑھی۔

پولٹری انڈسٹری کے لیے فیڈ سب سے بڑی لاگت میں شامل ہے اور مکئی اس کا اہم حصہ ہے۔ مکئی اور سویابین جیسے خام مال کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر مرغیوں کے چارے کی لاگت پر پڑتا ہے۔ ایسے میں جب مکئی کی طلب ایتھنول اور پولٹری دونوں شعبوں سے بڑھتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ بننا فطری ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں مکئی کی قیمتوں میں تیزی کے پیچھے صرف ایتھنول کی طلب ہی نہیں ہے۔ پولٹری فیڈ کی طلب، موسم اور پیداوار میں تبدیلی اور دیگر فیڈ ان پٹ کی قیمتیں بھی اس کی قیمت طے کرتی ہیں۔ اس لیے انڈوں کی موجودہ قیمتوں میں تیزی کو صرف ایتھنول کی وجہ سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔


مکئی کی گھریلو طلب بڑھنے کا اثر ہندوستان کی درآمدات پر بھی دکھائی دیا ہے۔ 2024 میں ہندوستان نے تقریباً 8.9 لاکھ ٹن مکئی درآمد کی تھی۔ میانمار اور یوکرین سے بڑی مقدار میں مکئی ہندوستان آئی۔ 25-2024 کے دوران بھی درآمدات میں تیزی دیکھی گئی تھی۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ ہندوستان پہلے مکئی برآمد بھی کرتا رہا ہے۔ اب گھریلو سطح پر فیڈ، ایتھنول اور دیگر صنعتی استعمال کے سبب طلب بڑھنے کی وجہ سے گھریلو سپلائی پر دباؤ بنا ہے۔ تاہم، ملک میں مکئی کی پیداوار بھی بڑھ رہی ہے۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 25-2024 میں ہندوستان کی مکئی کی پیداوار تقریباً 4.34 کروڑ ٹن رہی۔ حکومت نے ایتھنول اور فیڈ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر مکئی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈوں کی طلب سال بھر رہتی ہے، لیکن سردیوں میں اس کا استعمال عام طور پر بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں اگر مکئی اور پولٹری فیڈ کی لاگت بلند رہتی ہے تو بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان انڈوں کی قیمت پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ قیمت کتنی بڑھے گی، یہ صرف مکئی کی قیمت پر منحصر نہیں ہوگا بلکہ مرغیوں کی پیداواری صلاحیت، موسم، فیڈ کی دیگر لاگت اور بازار میں انڈوں کی سپلائی بھی اس میں اہم کردار ادا کرے گی۔ فی الحال صورت حال یہ ہے کہ ایتھنول کے لیے مکئی کی بڑھتی ہوئی طلب نے پولٹری انڈسٹری کے لیے ایک نیا لاگت کا چیلنج ضرور پیدا کر دیا ہے۔ پٹرول میں ایتھنول کی بڑھتی ہوئی شمولیت سے جہاں تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنے کا فائدہ ہے، وہیں دوسری طرف مکئی جیسی زرعی پیداوار کی بڑھتی ہوئی طلب کا اثر فیڈ اور انڈوں کی قیمت پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔