’امریکہ سے معافی مانگنے کہا جائے‘، امریکی حملہ میں 3 ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت پر کانگریس کا مودی حکومت سے مطالبہ

کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ملک سے خطاب کریں، غمزدہ کنبوں کو انصاف کا یقین دلائیں اور حکومت ہند امریکہ کے سامنے سخت اعتراض درج کراتے ہوئے اس سے معافی کا مطالبہ کرے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریا شرینیت، ویڈیو گریب</p></div>
i

خلیج عمان میں ایک جہاز پر امریکی فوج کے حملہ میں 3 ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت کے معاملہ پر کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی خاموشی توڑیں، قوم سے خطاب کریں اور غمزدہ خاندانوں سے خود بات کر کے انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ مودی حکومت امریکہ کے سامنے سخت احتجاج درج کراتے ہوئے اس سے عوامی طور پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرے۔ ساتھ ہی متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے اور خطے میں خدمات انجام دے رہے تمام ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی کی ضمانت بھی طلب کرے۔

کانگریس دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سوشل میڈیا شعبہ کی چیئرپرسن سپریا شرینیت نے مذکورہ مطالبات سامنے رکھے۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا کہ سمندری علاقوں اور تنازعات سے متاثرہ خطوں میں کام کرنے والے ہندوستانی شہریوں کی سلامتی کے انتظامات کا فوری طور پر جامع جائزہ لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں محفوظ طریقے سے وطن واپس لایا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔


سپریا شرینیت نے امریکی حملہ میں جان گنوانے والے آدتیہ شرما (ہماچل پردیش)، شیوانند چورسیا (اتر پردیش) اور پٹنالا سریش (آندھرا پردیش) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس نہایت حساس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کا یہ بزدلانہ رویہ ناکام خارجہ پالیسی کا زندہ ثبوت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے ہندوستان کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے، اس کے باوجود امریکہ نے ہندوستانی شہریوں پر حملہ کرنے کی جسارت کی۔ کانگریس لیڈر نے پی ایم مودی کے فرانس دورہ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانیوں کو مارنے والا وزیر اعظم کا ’ڈیئر فرینڈ ٹرمپ‘ ہے۔ امریکہ کو معلوم تھا کہ جہاز پر ہندوستانی سوار ہیں، اس کے باوجود حملہ کیا گیا اور ہندوستانی شہری مارے گئے، لیکن وزیر اعظم اس سب سے بے پروا ہو کر بیرون ملک رقص و موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ملک کی خود مختاری اور آزادی پر اس طرح حملہ ہوا ہے۔ امریکہ منمانی کر رہا ہے، لیکن نریندر مودی بولنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کسی بھی سابق وزیر اعظم نے ملک کی خود مختاری کو داؤ پر لگا کر اس طرح امریکہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ شرینیت نے ہندوستانی وزارت خارجہ کے رد عمل کو محض ایک رسمی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 13 جون کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور دھیمے انداز میں معمولی سا احتجاج درج کرایا، جس کے بعد انہوں نے بیان دیا کہ امریکہ کے سامنے اعتراض درج کرا دیا گیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے اس کے فوراً بعد آنے والے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے معافی مانگنے یا افسوس ظاہر کرنے کے بجائے ہندوستان کو یہ کہہ کر دھمکی دی کہ اگر امریکی فوج کے احکامات پر عمل نہیں کیا گیا تو آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے اب تک روبیو کے اس بیان کی تردید نہیں کی ہے، اس لیے ان کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔


سپریا شرینیت نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے بیانات کا بھی حوالہ پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی خود مختاری کے تحفظ کے بجائے ایک سمجھوتہ کر چکے وزیر اعظم امریکہ کے احکامات ماننے والے فرمانبردار ملازم کا کردار ادا کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ نریندر مودی کی ایسی کون سی کمزوری ہے جسے امریکہ نے دبا رکھا ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ موجودہ غیر ملکی دورے کے دوران جب وزیر اعظم مودی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے تو کیا وہ امریکی حملے میں 3 ہندوستانی ملاحوں کے بہیمانہ قتل کا معاملہ اٹھائیں گے؟ کیا وزیر اعظم امریکی قیادت سے پوچھیں گے کہ ہندوستانیوں کو مارنے کی امریکہ کی ہمت کیسے ہوئی؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا مودی حکومت نے کسی بین الاقوامی فورم پر اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے؟ کیا مودی حکومت نے عوامی طور پر سخت الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے؟

سپریا شرینیت نے ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے آنے والے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مجوزہ دورۂ ہند کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک نے ہمارے شہریوں کو قتل کیا اور ہماری توہین کی، اس کے تجارتی نمائندے کے دورے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے ملیشیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو امریکی تجارتی نمائندے کا دورہ ملتوی کر دینا چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی پر خود امریکی سپریم کورٹ نے روک لگا دی ہے اور جب اس تجارتی معاہدے سے ہندوستان کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔