مدھیہ پردیش: حکومت سے پریشان ہو کر یونیورسٹی کی جس زمین کو چھوڑ بھاگے تھے انل امبانی، وہاں ٹیکسٹائل پارک بنانے کا اعلان

اچار پورہ ایک بار پھر موضوعِ بحث ہے، یہاں شیوراج چوہان نے ٹیکسٹائل پارک بنانے کا اعلان کر دیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ 10 سال یونیورسٹی کا انتظار کرنے والوں کو ٹیکسٹائل پارک کے لیے کتنا انتظار کرنا ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے اچار پورہ تقریباً 14 کلو میٹر دور ہے۔ یہ علاقہ ایک بار پھر موضوعِ بحث ہے۔ دراصل 2010 میں شیوراج حکومت نے کھجوراہو میں انویسٹر میٹ کا انعقاد کیا تھا۔ اس دوران صنعت کار انل امبانی نے والد دھیرو بھائی امبانی کے نام پر یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ تب ریاستی حکومت نے نجی یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے معاہدے کے تحت اچارپورہ میں زمین الاٹ کی تھی۔ مدھیہ پردیش نجی یونیورسٹی ایکٹ، 2007 کے ضابطے اور گائیڈ لائنس کے تحت ریلائنس پاور لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ پر دستخط ہوا تھا۔ ریاست میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے امبانی ٹرسٹ کو سال 2011 میں اچار پورہ میں 44 ہیکٹیر، یعنی تقریباً 110 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔

اس وقت بتایا گیا تھا کہ یہ یونیورسٹی 110 ایکڑ علاقہ میں بنائی جائے گی جو جدید سہولیات کے ساتھ عالمی سطح کی ہوگی۔ اس یونیورسٹی میں انفارمیشن اینڈ مواصلاتی ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ موضوعات پر پڑھائی کے علاوہ تحقیقی کام کی بھی سہولت ملے گی اور یہاں مدھیہ پردیش کی معاشی ترقی سے متعلق پروگرام بھی چلائے جائیں گے۔ ٹرسٹ کے چیئرمین انل امبانی نے اس وقت کہا تھا کہ مدھیہ پردیش اپنے دانشورانہ وسائل کی طاقت پر معاشی ترقی کے شعبہ میں صف اول میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔


ٹرسٹ نے باؤنڈری وال بنانے میں 1.04 کروڑ روپے خرچ کیے۔ ٹرسٹ کے پانچ کروڑ میں سے 3 کروڑ 23 لاکھ 43 ہزار روپے کی رقم زمین کی لیز سے متعلق پریمیم رقم جمع کرنے میں خرچ ہو گئی۔ لیکن اس کے بعد پنچایت سے لے کر محکمہ جنگلات، ہارٹیکلچر محکمہ، محکمہ تعلیم اور محکمہ تعمیرات عامہ سمیت دیگر حکومتی محکموں سے این او سی لینے میں امبانی ٹرسٹ کے پسینے چھوٹ گئے۔ ذرائع کے مطابق امبانی این او سی میں ہو رہی تاخیر سے اتنے پریشان ہوئے کہ انھوں نے 2015 میں زمین واپس کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ویسے اس وقت انل امبانی کے پاس پیسے کی قلت کی خبر آج کی طرح برسرعام نہیں ہوئی تھی۔ لیکن گروپ نے ستمبر 2015 میں زمین واپس کرتے ہوئے گارنٹی رقم نجی یونیورسٹی ریگولیٹری کمیشن سے مانگی تھی۔ ریاستی حکومت میں اس وقت یہ بتانے کو کوئی تیار نہیں ہے کہ اس رقم کو حکومت نے اب تک واپس کیا ہے یا نہیں۔

خیر، پانچ سال بعد اچار پورہ پھر موضوعِ بحث ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے یہاں 13 ستمبر کو ٹیکسٹائل پارک کی رسم رونمائی انجام دیا۔ انھوں نے اس موقع پر منعقد تقریب میں بتایا کہ گوکل داس ایکسپورٹس کے ذریعہ مجوزہ یہ یونٹ 10 ایکڑ زمین پر بنے گی اور اس میں کمپنی 110 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی جس سے 4 ہزار سے زیادہ مقامی اشخاص کو روزگار دستیاب ہو سکے گا۔ ساتھ ہی پلانٹ میں تین چوتھائی سے زیادہ خواتین کام کریں گی۔ حکومت نے اس یونٹ سے ہی تقریباً 10 ہزار لوگوں کو روزگار دینے کا دعویٰ کیا۔ اچار پورہ صنعتی علاقہ 146 ہیکٹیر اراضی پر مبسوط ہے۔ صنعت قائم کرنے پر 800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تقریباً 10 سال یونیورسٹی کے انتظار میں مایوس ہو گئے لوگوں کو اب ٹیکسٹائل منصوبہ پورا ہونے کے لیے کتنے سالوں تک انتظار کرنا ہوگا؟

(بھوپال سے رامیَش کیوٹ کی رپورٹ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔