دہلی میں کارپوریشن-حکومت کی ملی بھگت سے بند عمارتوں میں چل رہے کاروبار: کانگریس

دہلی کانگریس صدر انل کمار نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ دہلی میں پانی اور بجلی تو دہلی حکومت دستیاب کراتی ہے، پھر کس طرح بند دکان اور مال کو پانی اور بجلی کی سہولت مل رہی ہے۔

دہلی کانگریس کے سربراہ انل چودھری / تصویر ڈی پی سی سی
دہلی کانگریس کے سربراہ انل چودھری / تصویر ڈی پی سی سی
user

قومی آوازبیورو

دہلی پردیش کانگریس نے بی جے پی حکمراں میونسپل کارپوریشن اور دہلی کی کیجریوال حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے ان پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے۔ ریاستی کانگریس صدر انل کمار نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی شہ پر کمرشیل علاقہ قرول باغ میں ایک مال سرکاری کاغذات میں سیل ہونے کے بعد بھی چل رہا ہے۔

انل کمار نے بتایا کہ 2012 میں قوانین کی خلاف ورزی کے سبب قرول باغ میں ایک مال کو سیل کیا گیا تھا، لیکن ب جے پی اور عآپ کی ملی بھگت سے آج اس مال میں کمرشیل سرگرمیاں بے خوف چل رہی ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ بغیر اجازت کے سرکاری سیلنگ کو غیر قانونی طریقے سے توڑنے والوں کے ساتھ حکم عدولی کی مجرمانہ کارروائی ہونی چاہیے اور اس میں شامل کارپوریشن اور دہلی حکومت کے افسروں کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔


انل کمار کے مطابق دہلی میں صرف قرول باغ واقع مال ہی نہیں، کتنی ہی ایسی ملکیتیں ہیں جو آفیشیل طور پر کاغذوں میں بند ہونے کے باوجود ان میں کمرشیل سرگرمیاں بدعنوانی کے سبب برسرعام چل رہی ہیں، جس میں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کی مکمل ملی بھگت ہے۔

دہلی کانگریس سربراہ نے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ دہلی میں پانی اور بجلی تو دہلی حکومت دستیاب کراتی ہے، تو کیسے ایک بند دکان اور مال کو پانی اور بجلی کی سہولت مل رہی ہے؟ یہ سہولتیں صرف پیسے کے لین دین کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ اس سے واضح ہے کہ سیل عمارتوں میں کمرشیل سرگرمیاں چلنے میں میونسپل کارپوریشن اور دہلی حکومت کی ملی بھگت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔