الور موب لنچنگ: پہلو خاں قتل معاملے میں تمام ملزمان بری

الور ڈسٹرکٹ کورٹ نے آج فیصلہ سناتے ہوئے تمام چھ بالغ ملزمان کو ثبوت کے فقدان کے سبب بری کردیا، جبکہ تینوں نابالغ ملزموں کی سماعت جیوینائل کورٹ میں کی جائے گی۔

فائل فوٹو پہلوخان
فائل فوٹو پہلوخان
user

یو این آئی

الور: راجستھان کے ضلع الور کے بہہ روڈ میں پہلو خاں موب لنچنگ معاملے میں عدالت نے آج فیصلہ سناتے ہوئے تمام چھ بالغ ملزمان کو ثبوت کے فقدان کے سبب بری کردیا، جبکہ تینوں نابالغ ملزموں کی سماعت جیوینائل کورٹ میں کی جائے گی۔

فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر یوگیندر سنگھ کھٹانہ نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ بے ساختہ ہے۔ فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد مناسب عدالت میں اپیل کی جائے گی۔ وہیں ملزمان کے وکیل حکم چند نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے عدلیہ کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولس نے تمام ملزمان کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا۔ اب اس معاملہ کا فیصلہ ہوگیا ہے کہ کون صحیح ہے۔ وکیل حکم چند نے بتایا کہ انہیں کس بنیاد پر بری کردیا گیا ہے۔ یہ سارا فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔

الور ضلع کے بهروڑ تھانہ علاقے میں یکم اپریل 2017 کو جے پور کے هٹواڑے سے گائے لے کر جا رہے ہریانہ کے نوح کے پہلو خان اوراس کے بیٹوں عمر اور طاہرکی بھیڑ نے جم کر پٹائی کی تھی۔ پولس نے ان کوبھیڑ سے چھڑا کر بہروڑ کے کیلاش اسپتال میں داخل کرایا تھا۔ وہاں علاج کے دوران پہلو خان کی 4 اپریل، 2017 کو موت ہوگئی تھی۔ اس معاملے میں عدالت میں چالان کے بعد باضابطہ سماعت ہوئی تھی۔

اس معاملے میں پولس کی جانچ میں چھ نامزد ملزمین کو پولس نے ملزم نہیں مانا تھا ان کی جگہ ویڈیو اور دیگر ثبوت کی بنیاد پر نو افراد کو ملزم قرار دیا گیا تھا جس میں تین نابالغ بھی شامل ہیں۔

چار اپریل 2017 کو پہلو خان کی علاج کے دوران کیلاش اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے میں پولس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 147، 323، 341، 308، 379،427 اور 302 کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کی۔ جانچ کے بعد عدالت میں وپن یادو، روندر، كالورام، دیانند اور یوگیش کمار اور بھیم راٹھی کے خلاف چارج شیٹ 31 مئی 2017 کو پیش کی تھی۔ تمام ملزم راجستھان ہائی کورٹ کے حکم پر ضمانت پر تھے۔ اس معاملے میں 44 گواہوں کے بیان درج کرائے گئے۔

ایڈیشنل ضلع و سیشن جج (نمبرایک) جسٹس سریتا سوامی نے عدالت میں پیش کیے ثبوت کو تسلیم نہیں کیا۔ لہذا تمام چھ ملزمین کو ثبوت کے فقدان کے سبب بری کر دیا۔

next