مہاراشٹر میں تمام مذہبی مقامات کھولنے کی اجازت، ماسک لگانا لازمی

حکومت مہاراشٹرا کی طرف سے یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ سوشل ڈسٹنسنگ کے تمام ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور مندروں میں زیادہ بھیڑ ہرگز نہ ہونے دی جائے۔

ادھو ٹھاکرے، تصویر یو این آئی
ادھو ٹھاکرے، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: مہاراشٹر کی ادھو ٹھاکرے حکومت نے تمام مذہبی مقامات کو کھولنے کی اجازت فراہم کر دی ہے۔ مہاراشٹر حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق تمام شرائط کے ساتھ 16 نومبر سے تمام مندروں کو کھولا جا سکتا ہے۔ تاہم، مندروں میں جانے والے عقیدتمندوں کو حکومت کی طرف سے کورونا کے پیش نظر جاری کی گئیں تمام ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ نیز مندروں میں ماسک پہن کر ہی داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

حکومت کی طرف سے یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ سوشل ڈسٹنسنگ کے تمام ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور مندروں میں زیادہ بھیڑ ہرگز نہ ہونے دی جائے۔ صوبائی حکومت کے حکم جاری کرنے کے بعد سدھی ونائک ٹرسٹ کے آدیش باندیکر نے کہا کہ انہیں حکم نامہ کی نقل موصول ہوگی ہے۔


سدھی ونائک ٹرسٹ کے آدیش باندیکر نے کہا کہ حکم نامہ کی نقل موصول ہونے کے بعد ایک اجلاس طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت حد تک ممکن ہے کہ مندر ایک دن بعد کھل جائے۔ غور طلب ہے کہ مندر کھولے جانے کے مسئلہ پر بی جے پی نے محاذ کھولا ہوا ہے۔ اس معاملہ پر گورنر بھگت سنگھ کوشیاری وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خط بھی لکھ چکے ہیں۔

گورنر نے ادھو کو لکھے خط میں شیوسینا پر ہندوتوا کے حوالہ سے طنز کیا تھا۔ گورنر کے اس خط پر راشٹروادی کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر گورنر کے خط کی زبان پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔