کل جماعتی میٹنگ: غلام نبی آزاد کے وہ 5 پوائنٹس جو انھوں نے پی ایم مودی کے سامنے رکھے

کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’اس وقت امن بھی ہے، جنگ بندی بھی ہے، سرحد بھی پرسکون ہے، تو اس سے زیادہ کوئی مناسب وقت نہیں ہو سکتا اسٹیٹ ہُڈ گرانٹ کرنے کے لیے۔‘‘

غلام نبی آزاد / UNI
غلام نبی آزاد / UNI
user

تنویر

وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر 24 جون کو ہوئی جموں و کشمیر کے سرکردہ لیڈروں کی میٹنگ میں کئی ایشوز رکھے گئے۔ پی ایم مودی کی قیادت میں ہوئی اس میٹنگ میں فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ، الطاف بخاری، غلام احمد میر، غلام نبی آزاد اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سمیت کئی اہم سیاستداں و افسران شامل ہوئے۔ میٹنگ کے بعد کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے ایک پریس کانفرنس کیا جس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ انھوں نے میٹنگ میں اپنی طرف سے 5 اہم باتیں رکھیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ پانچ باتیں یا پوائنٹس کیا تھے...

  1. غلام نبی آزاد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ہم لوگوں نے میٹنگ میں یہ یاد دلایا کہ ایوان کے اندر وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نے بھی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ہم ایک وقت پر اسٹیٹ ہُڈ (ریاستی درجہ) بحال کریں گے۔ اس وقت امن بھی ہے، جنگ بندی بھی ہے، سرحد بھی پرسکون ہے، تو اس سے زیادہ کوئی مناسب وقت نہیں ہو سکتا اسٹیٹ ہُڈ گرانٹ کرنے کے لیے۔‘‘

  2. اپنے اگلے پوائنٹس کے بارے میں بتاتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’ہم لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے، آپ نے پنچایت الیکشن کیے، ضلع پریشد کا الیکشن کرایا، تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اسمبلی الیکشن نہ ہو! اس لیے اسمبلی انتخابات بھی فوراً کرایا جانا چاہیے تاکہ جمہوریت بحال ہو۔‘‘

  3. غلام نبی آزاد تیسرے پوائنٹ کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے بولا کہ ’’مرکزی حکومت کو یہ گارنٹی دینی چاہیے کہ وہ جب بھی بل لائے گی تو اس کے ساتھ ہماری زمین کی گارنٹی اور جو مقامی ملازم ہیں، آئی اے ایس اور آئی پی ایس، وہ تو آتے رہیں گے، وہ تو ہر ریاست میں ہیں اور کشمیر بھی آتے رہیں گے، لیکن جو روزگار کی ابھی تک ہمارے لیے سہولت تھی، اس سہولت کی گارنٹی دی جانی چاہیے۔‘‘

  4. چوتھا پوائنٹ کشمیری پنڈتوں سے جڑا ہوا تھا جس کے بارے میں غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’کشمیری پنڈت گزشتہ 30 سال سے باہر ہیں۔ بہت سارے جموں میں بھی ہیں، کشمیر میں بھی ہیں، لیکن بہت بڑی تعداد باہر ہے۔ یہ ہماری (جموں و کشمیر کی سیاسی پارٹیوں اور لیڈران) اخلاقی ذمہ داری ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو واپس لائیں اور ان کی باز آبادکاری میں جو بھی ہم سے ہو سکے گا، حکومت کی مدد کریں گے۔‘‘

  5. آخری یعنی پانچویں پوائنٹ کے بارے میں کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’جس وقت 5 اگست کو ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ڈاؤن گریڈ کیا گیا، اس سے قبل اور اس کے بعد بھی ہزاروں کی تعداد میں سیاسی قیدی بنائے گئے، جن میں سماجی کارکنان تھے، سماجی اداروں کے لوگ تھے اور سیاسی لیڈران بھی تھے، ان سب کو رِہا کر دینا چاہیے، چھوڑ دینا چاہیے۔ ہم ملیٹینٹ کی بات نہیں کر رہے، ان کی بات کر رہے ہیں جو ایک خوف کی وجہ سے قید کیے گئے ہیں کہ انھیں چھوڑا تو کچھ ہو جائے گا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔